صیہونی حکومت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات
غاصب صیہونی حکومت اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعاون کے نئے پہلوؤں کے انکشاف کو ذرائع ابلاغ نے وسیع پیمانے پر کوریج دی ہے اور ایک بار پھر پوری دنیا کی توجہ عرب حکمرانوں اور صیہونی حکومت کے ساتھ امریکہ کے توسط سے ہونے والے پس پردہ تعلقات کی طرف مرکوز ہوئی ہے۔
بعض عرب ممالک، خاص طور سے خلیج فارس علاقے کے عرب ممالک، کے ساتھ صیہونی حکومت کے خفیہ اور آشکار تعلقات ہمیشہ مختلف ذرائع ابلاغ کی توجہ کا مرکز بننے والی خبروں کا حصہ رہے ہیں۔ دریں اثنا امریکہ میں متحدہ عرب امارات کے سفیر یوسف عتیبہ کے ای میل ہیک کئے جانے کے بعد جو دستاویزات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق ابو ظہبی اور تل ابیب کے درمیان مضبوط خفیہ تعلقات قائم ہیں جو امریکہ کے دفاع جمہوریت ادارے، ایف ڈی ڈی، کے توسط سے انجام پاتے ہیں۔ مذکورہ ادارہ ابوظہبی اور تل ابیب کے درمیان کوآرڈینیشن کا کام کرتا ہے۔
امریکی ویب سائٹ "انٹرسیپٹ" کی رپورٹ کے مطابق دفاع جمہوریت ادارے کے سربراہ مارک ڈو بووٹز نے گزشتہ 10 مارچ کو یوسف عتیبہ کو ایک ای میل بھیج کر امریکہ، اسرائیل اور عرب حکام کے درمیان مزید خفیہ تعاون کی خبر دی تھی۔ امریکہ، اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان اس جدید تعاون کا محور ایران میں سرمایہ کاری سے روکنا تھا۔ امریکی اور صیہونی اداروں کی ثالثی سے صیہونی حکومت اور متحدہ عرب امارات کے تعلقات روز بروز وسیع تر شکل اختیار کر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ صیہونی حکومت اور متحدہ عرب امارات اقتصادی منصوبوں اور فوجی مشقوں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتے ہیں اور ایک دوسرے کے یہاں کے دوروں کا بھی اہتمام کرتے ہیں۔ اس طرح حالیہ برسوں میں ابو ظہبی دنیائے عرب میں صیہونی حکومت کے ایک اہم ترین سیکورٹی اور انٹیلی جینس نیز تجارتی مرکز میں تبدیل ہوگیا ہے۔
اس سے پہلے صیہونی ذرائع ابلاغ نے صیہونی حکومت کی ایک سیکورٹی کمپنی " ای جی ٹی" اور متحدہ عرب امارات کے درمیان متحدہ عرب امارات کے تیل و گیس کے اداروں کی سیکورٹی کے لئے ہونے والے ایک معاہدے کی خبر دی تھی۔
اکتوبر 2015ع میں متحدہ عرب امارات میں جوڈو کے عالمی مقابلے ہوئے تھے اور متحدہ عرب امارات نے صیہونی حکومت کی ٹیم کو ان مقابلوں میں شرکت کے لئے متحدہ عرب امارات آنے کی اجازت دی تھی لیکن یہی ملک یعنی متحدہ عرب امارات سرکاری مقامات اور اداروں میں فلسطینی پرچم لہرانے کی اجازت نہیں دیتا۔ یہی نہیں وہ فلسطین کی مزاحمتی تحریکوں کے رکن ہر فلسطینی کو اپنے یہاں سے باہر نکال دیتا ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ صیہونی حکومت اور متحدہ عرب امارات کی آشکار قربت میں فلسطین کی مزاحمتی تحریکوں سے ابو ظہبی اور تل ابیب کی مشترکہ دشمنی کا بڑا کردار ہے۔ علاوہ ازیں فلسطینی مزاحمت کے خلاف متحدہ عرب امارات اور اسرائیلی حکام کے بیانات میں بھی بہت یکسانیت پائی جاتی ہے۔
خبری ذرائع اور صیہونی حکومت کے بعض فوجی کمانڈروں نے بھی 2014ع میں غزہ کے خلاف ہونے والی اسرائیلی جنگ میں متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور قطر سمیت بعض عرب ممالک کی طرف سے اسرائیل کی مدد اور تعاون کی خبر دی تھی۔ ادھر صیہونی حکومت نے 2015ع میں ابو ظہبی میں آشکار طور پر اپنے تجارتی نمائندہ دفتر کا افتتاح اور قابل تجدید توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کی عمارت کے اندر جشن منایا تھا۔
عرب ممالک میں ہونے والی بین الاقوامی کانفرنسوں اور نشستوں میں شرکت کے بہانے اسرائیلی وفود کی میزبانی صیہونی حکومت کے ساتھ اپنے تعلقات کو وسعت دینے کا متحدہ عرب امارات کا ایک حربہ رہا ہے۔ متحدہ عرب امارات نے مختلف مواقع پر اسرائیل کے اعلی سطحی وفود کی میزبانی کی ہے جبکہ صیہونی حکومت فلسطینیوں کے خلاف اپنے جرائم میں شدت اور علاقے میں توسیع پسندانہ پالیسیوں کی وجہ سے عالمی سطح پر تنہا ہوچکی ہے۔ صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات کی برقراری اور ان کو وسعت دینے کا متحدہ عرب امارات کا اقدام صیہونی حکومت اور اس کی حامی کمپنیوں کے اقتصادی بائیکاٹ کی عرب لیگ کی پالیسی سے پوری طرح سے تضاد رکھتا ہے۔ دوسری طرف اسرائیل عرب ممالک کی پالیسیوں کو علاقے میں اپنی فتنہ گرانہ پالیسیوں کے مطابق ڈھال کر علاقے میں استقامتی محاذ کو کمزور کرنے اور مشرق وسطی کے علاقے پر اپنا تسلط جمانے کے لئے عرب حکومتوں کی توانائیوں سے فائدہ اٹھانے کے درپے ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ متحدہ عرب امارات نے بھی اقتصادی اور سیکورٹی کے ڈھانچوں میں رخنہ اندازی پر مبنی اسرائیل کے اقدامات کو نظر انداز کرکے امریکہ اور صیہونی حکومت کے تسلط پسندانہ، دشمنانہ اور غارت گری کے منصوبوں کے دائرے میں علاقے کے تغیرات میں مؤثر کردار ادا کیا ہے۔