اسرائیل اور عرب حکام کے درمیان سازباز
خبروں میں اسرائیل کی دہشت گردانہ کاروائیوں میں، متحدہ عرب امارات کے تعاون کی نئی تفصیلات کا انکشاف ہوا ہے اور اس مسئلے نے حالیہ دنوں میں ایک بار پھر لوگوں کی توجہ، فلسطینی عوام کو سرکوب کرنے اور علاقے میں اسرائیل کی دہشت گردانہ پالیسیوں کو آگے بڑھانے کے لئے قدس کی غاصب حکومت اور عرب حکام کے درمیان سازباز پر مرکوز کردی ہے۔
برطانیہ میں انسانی حقوق کی عرب تنظیم نے انکشاف کیا ہے کہ تحریک حماس کے ایک عہدیدار محمود مبحوح کو قتل کرنے والی ٹیم کے کم از کم دو افراد متحدہ عرب امارات میں درانہ گھوم رہے ہیں اور ابھی تک ان کے خلاف کوئی قانونی کاروائی نہیں کی گئی ہے- برطانیہ کی اس تنظیم نے ایک بیان میں کہا ہے کہ محمود مبحوح کے قاتل، اس قتل کی کاروائی کے بعد اردن فرار کرگئے تھے۔ محمود مبحوح کو انیس جنوری 2010 کو پچاس سال کی عمر میں دبئی کے ایک ہوٹل میں قتل کردیا گیا تھا- موساد کے ایجنٹ ایک پیچیدہ کاروائی کے ذریعے، دبئی کے ایک ہوٹل میں رہائش پذیر محمود مبحوح کے کمرے میں داخل ہوگئے تھے اور ان کے بدن میں زہریلا انجکشن لگاکر انہیں موت کے گھاٹ اتار دیا تھا- دبئی پولیس کی تفتیش کے مطابق اس کارروائی میں اسرائیل کی بدنام زمانہ خفیہ تنظیم موساد ملوث تھی اور کارروائی کرنے والے افراد نے برطانیہ، آئرلینڈ، آسٹریلیا اور جرمنی کے جعلی پاسپورٹ استعمال کیے تھے۔ بعض عرب ملکوں خاص طور پر خلیج فارس کے عرب ملکوں کے ساتھ صیہونی حکومت کے خفیہ اور آشکارا تعلقات ان حقائق میں سے ہیں جو ہمیشہ مختلف خبری حلقوں میں منظر عام پر آتے رہتے ہیں-
اسی سلسلے مین قطر کے الجزیرہ چینل نے بھی ایک پروگرام میں ، دبئی میں محمود مبحوح کے قتل میں متحدہ عرب امارات کے ملوث ہونے کا انکشاف کیا ہے- مختلف ثبوت و دستاویزات کے مطابق کہا گیا ہے کہ مبحوح کو قتل کرنے والی ٹیم کے دو افراد ، دبئی میں قتل کی واردات انجام دینے سے سات سال قبل، متحدہ عرب امارات کے حکام کے توسط سے اس ملک کی جیل سے رہا کئے گئے تھے- مذکورہ ملزمین کو، کیمروں میں قید تصاویر کی بنیاد پر دبئی میں بارہا موساد کے اہلکاروں کے ساتھ ملاقات کرتے ہوئے دیکھا گیا ہے- اسرائیل کے ایجنٹوں نے اب تک مقبوضہ فلسطین اور بیرونی ممالک میں قتل کی متعدد کاروائیاں انجام دی ہیں کہ جن میں فلسطین کی تحریک جہاد اسلامی کے بانی فتحی شقاقی ہیں جنہیں اکتوبر 1995 میں مالٹا میں قتل کیا گیا تھا - پھر 2008 میں حزب اللہ لبنان کے سینئر رکن عماد مغنیہ کو شام میں قتل کیا گیا اور اسی طرح تحریک حماس کے ایک اور بانی شیخ احمد یاسین کوغزہ میں قتل کیا گیا تھا - یہ اسرائیلی ایجنٹوں کے توسط سے انجام پانے والی کاروائیوں کی چند مثالیں ہیں- تحریک حماس کے ایک عہدیدار خالد مشعل پر بھی 1997 میں اردن میں، ناکام قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا - اسرائیل کی اس دہشت گردانہ کاروائی کے سراغ کے نتائج سے بھی یہ واضح ہوتا ہے کہ اس کاروائی کا منصوبہ متحدہ عرب امارات میں ہی تیار کیا گیا تھا-
قابل ذکر ہے کہ گذشتہ دو عشروں کے دوران صیہونی حکومت کے ساتھ متحدہ عرب امارات کے تعلقات میں توسیع کے بعد خلیج فارس کے عرب ممالک، صیہونی حکومت کے جاسوسوں اور دہشت گردوں کا اڈہ بن گئے ہیں - اسرائیلی ایجنٹوں کو متحدہ عرب امارات کے حکام کی رضامندی کے سائے میں، علاقے میں دہشت گردانہ کاروائیاں انجام دینے میں کسی طرح کی روک ٹوک نہیں ہے اور انہیں اردن کی عدالت اور سیکورٹی اداروں کی حمایت حاصل ہے- صیہونی حکومت نے بہت سی دہشت گردانہ کاروائیوں کی منصوبہ بندی، دبئی اور ابوظہبی میں کی ہے اور عملی طور پر متحدہ عرب امارات ،اس غاصب حکومت کے لئے علاقے میں خفیہ اور دہشت گردانہ کاروائیوں کے اڈے میں تبدیل ہوگیا ہے- ماہرین کا خیال ہے کہ صیہونی حکومت کہ جس کی ماہیت ہی قتل و دہشت گردی اور غاصبانہ قبضے پر استوار ہے ، مغرب خاص طور پر امریکہ کی ہمہ جانبہ حمایت اور اس غاصب حکومت کے دہشت گردانہ اقدامات پر عرب حکام کے ذریعے پردہ پوشی کے سبب، بین الاقوامی نظام میں کبھی اس سے بازپرس نہیں ہوئی ہے اسی لئے وہ علاقے میں مزید جارحیتیں انجام دینے میں گستاخ ہورہی ہے-
اسرائیل، دہشت گردانہ پالیسیوں میں شدت لاکر رعب و وحشت ایجاد کرنے اور علاقے میں کسی بھی قسم کی مزاحمت کا گلا گھونٹنے کے درپے ہے- عرب حکام بھی کہ جن کا علاقے میں کوئی عوامی محاذ نہیں ہے اور وہ صیہونیت مخالف مزاحمتی دھڑوں کو اپنے لئے خطرہ سمجھ رہے ہیں، صیہونی حکومت کے ساتھ تعاون کے ذریعے علاقے کی قوموں منجملہ فلسطینی عوام کے خلاف اٹھ کھڑے ہوئے ہیں- متحدہ عرب امارات کے حکام کی غیر سوچی سمجھی پالیسیوں اور اسرائیل کے ساتھ ان کے تعاون کے اسکینڈل نے، علاقے کی رائے عامہ کے نزدیک ان کی پوزیشن ماضی سے زیاد متزلزل کردی ہے۔