Jun ۱۷, ۲۰۱۷ ۱۹:۰۳ Asia/Tehran

جوہری توانائی کی عالمی ایجنسی کا جون اجلاس جمعہ سولہ جون کو اختتام پذیر ہوگیا - آئی اے ای اے میں ایران کے نمائندے رضا نجفی نے بورڈ آف گورنرز کے جون اجلاس میں غاصب صیہونی حکومت کے فوجی جوہری پروگرام کو علاقے کی اقوام اور عالمی برادری کے لئے باعث تشویش قرار دیا۔

رضا نجفی نے ایک تقریر میں اسرائیل کی ایٹمی صلاحیتوں سے متعلق تشویش ظاہر کرتے ہوئے نا وابستہ تحریک کے ممبر ملکوں کے ذریعے اسرائیل کے ایٹمی پروگرام کی شدید مذمت کا ذکر کیا اور ایٹمی توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی کی جانب سے صیہونی حکومت کے جوہری پروگرام پر مکمل نظر اور اس فوجی پروگرام کا گہرائی سے جائزہ لئے جانے کا مطالبہ کیا۔ صیہونی حکومت اس وقت علاقے کی سلامتی کے لئے خطرہ بنی ہوئی ہے- اس کے خطرات کو دو حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے پہلا غاصبانہ قبضہ ہے کہ جو فلسطینی علاقوں پر قبضے کے وقت سے شروع ہوا لیکن دوسرا مسئلہ جو اہم بھی ہے اسرائیل کا ایٹمی خطرہ ہونا ہے کہ جو چند وجہ سے اہمیت کا حامل ہے- اس مسئلے کی اہم ترین وجہ اس سوال سے مربوط ہے کہ کیوں اسرائیل ، اپنی غیرروایتی سرگرمیاں پرامن طور پر انجام دے رہا ہے اور عالمی برادری کے پے درپے مطالبات کے باوجود اس کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا گیاہے- 

حقیقت یہ ہے کہ جوہری توانائی کی بین الاقوامی ایجنسی نے ہمیشہ اسرائیل کے غیرقانونی اقدامات اور رویوں سے چشم پوشی کی ہے- جبکہ ایسے بہت سے ثبوت و شواہد موجود ہیں جن سے اس بات کی تائید ہوتی ہے کہ صیہونی حکومت بین الاقوامی قوانین کو پامال کرتے ہوئے اپنے فوجی ایٹمی پروگرام کو آگے بڑھا رہی ہے-  یہ حکومت ایک غاصب کی حیثیت سے گزشتہ چھے عشروں سے زائد عرصے کے دوران فلسطین کی سرزمین کو تقسیم اور اس پر قبضہ کرنے کے بعد ہمیشہ علاقے میں جنگوں اور خطروں کا اصلی سبب اور منظم دہشت گردی کا سرچشمہ رہی ہے اور اسرائیل کی فوجی ایٹمی سرگرمیوں کو بھی ایک اسٹریٹجی کے طور پر انجام دیا جا رہا ہے۔

واشنگٹن میں موجود سائنس و سیکورٹی کے بین الاقوامی ادارے آئی ایس آئی ایس نے انیس نومبر دو ہزار پندرہ کو اپنی ایک رپورٹ میں اعلان کیاتھا کہ اسرائیل نے پچاس سال کے دوران چھے سو ساٹھ کلوگرام پلوٹونیم افزودہ کیا ہے۔ اس پلوٹونیم کو ایٹمی ہتھیاروں کی تباہی کی صلاحیت بڑھانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ یہ جائزہ اس بات کی تائید کرتا ہے کہ دو ہزار چودہ میں اسرائیل کے پاس ایک سو پندرہ ایٹم بم موجود تھے۔ اس رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے بیلیسٹک میزائل اریحا کے علاوہ ایسے کروز میزائل بنانے میں بھی کامیابی حاصل کر لی ہے کہ جو ایٹمی وارہیڈز لے جانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اسرائیل نے اسی طرح دوسرے ملکوں سے سول اور فوجی دونوں مقاصد کے لیے استعمال ہونے والا بہت سا ایٹمی ساز و سامان خریدا ہے کہ جس میں زیادہ تر سامان غیرقانونی طور پر حاصل کیا گیا ہے۔

ایٹمی ہتھیاررکھنے والے ممالک  دنیا کو ایٹمی ہتھیار سے پاک کرنے کے نعرے کو کبھی عملی جامہ پہنانے کے خواہاں نہیں رہے ہیں اوراس دعوے کا ثبوت مشرق وسطی میں صیہونی حکومت کے ایٹمی خطرے پر پردہ ڈالنا ہے۔ موجودہ صورتحال سے پتہ چلتا ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں میں توسیع اور اس کے استعمال کی دھمکی اور امریکہ برطانیہ اور فرانس کی جانب سے صیہونی حکومت کے ساتھ تعاون ، ایٹمی ہتھیاروں کی پیداوار اور اس کے عدم پھیلاؤ کے معاہدے سی ٹی بی ٹی اوراین پی ٹی کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اسرائیل نے فرانس کی مدد سے انیس سو ساٹھ میں ڈیمونا ایٹمی پلانٹ  کا آغاز کیا اور آج تک کبھی بھی اس ایٹمی پلانٹ کاعالمی اداروں کی جانب سےمعائنہ نہیں کیا گیا اور صیہونی حکومت نےآج تک  این پی ٹی معاہدے پر دستخط نہیں کئے ۔

یہ دوہرا رویہ ایسے عالم میں جاری ہے کہ این پی ٹی معاہدے کی بنیاد پر، غیرایٹمی ممالک  ایٹمی ہتھیار تیار نہ کرنے اور ایٹمی ہتھیار کے حامل ممالک، اپنے ایٹمی ہتھیار تباہ کردینے کے پابند ہیں ۔ان حالات میں صیہونی حکا م بے بنیاد مفروضوں اور پروپیگنڈوں سے ایران کے پرامن ایٹمی پروگرام کوخطرہ ظاہر کرنے اور اپنے ایٹمی خطرات کو چھپانے کی کوشش کررہے ہیں- ویانا میں آئی اے ای اے کے بورڈ آف گورنرز کے اجلاس میں ایران کے مستقل مندوب کا بیان بھی صیہونی حکومت کے ایٹمی ہتھیاروں سے عالمی سطح پر پائی جانے والی تشویش کے تناظر میں ہے اور آئی اے ای اے کو چاہئے کہ اپنی ذمہ داریوں کی بنیاد پر، اسرائیل کی غیر روایتی سرگرمیوں کے خلاف  ٹھوس قدم اٹھائے۔

ٹیگس