اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب کے بڑھتے ہوئے تعلقات
سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان برسہا برس سے خفیہ تعلقات قائم تھے اور اب یہ دونوں حکومتیں خصوصا اقتصادی میدان میں اعلانیہ تعلقات قائم کرنے کے درپے ہیں۔ اس سلسلے میں ایک صیہونی اخبار نے اقتصادی تعلقات کی تقویت کے بارے میں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے ساتھ صیہونی حکومت کے مذاکرات کی خبر دی ہے۔
ہاآرتص اخبار کی ویب سائٹ نے مغربی اور عرب ذرائع کے حوالےسے ہفتے کے دن لکھا کہ سعودی عرب اور اسرائیل اعلانیہ اقتصادی تعلقات قائم کرنےکے درپے ہیں اور انہوں نے دو طرفہ تعلقات کے باقاعدہ آغاز کی جانب پہلا قدم اٹھا دیا ہے۔ ابتدائی معاہدے کے مطابق سعودی عرب نے اسرائیلی کمپنیوں کو خلیج فارس میں تجارت کی اجازت دے دی ہے اور اسرائیل کی ایل ایل ایئرلائن (El Al Airline) کے طیارے سعودی عرب کی فضائی حدود سے پرواز کرسکتے ہیں۔ بعض سیاسی حلقوں کا کہنا ہے کہ سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات کی برقراری در اصل نام نہاد مشرق وسطی امن منصوبے کو حتمی شکل دینے سے متعلق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سازش پر مبنی وعدے کو عملی جامہ پہنانے سے عبارت ہے۔
رواں مہینے کے ابتدائی دنوں میں اسرائیلی وزیر جنگ اویگڈور لیبر مین نے کہا تھاکہ خطے کے عرب ممالک اور قطر کے درمیان سفارتی کشیدگی اسرائیل اور عرب حکومتوں کے درمیان نئے باہمی تعاون کا سبب بن سکتی ہے۔ صیہونی حکام کے بیانات سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ یہ حکومت سعودی عرب کے ذریعے عرب ممالک کے درمیان اختلافات ڈالنے میں ملوث ہے۔ اسرائیل کے ساتھ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے تعلقات ہی قطر اور ان عرب ممالک کے تعلقات منطقع ہونے کا سبب ہیں۔ واضح رہے کہ قطر فلسطینی گروہوں کی حمایت کرتا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ صیہونی حکومت مغرب کی جانب سے عرب ممالک کے درمیان پیدا کردہ اختلافات سے فائدہ اٹھا رہی ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب حالیہ برسوں کے دوران خطےمیں صیہونیت مخالف استقامت کے خلاف سعودی عرب اور اسرائیل کی ہم آہنگی میں اضافہ ہوا ہے۔ اسرائیل اور سعودی عرب کافی عرصے سے اسلامی استقامت کے خلاف آپس میں تعاون کر رہے ہیں۔ خبری ذرائع حتی صیہونی حکومت کے بعض کمانڈروں نے بھی خبر دی ہے کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سمیت بعض عرب ممالک نے سنہ دو ہزار چودہ میں غزہ پٹی پر صیہونی حکومت کے حملوں کے موقع پر اس حکومت کی حمایت کی تھی۔
قرائن سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ خلیج فارس کے عرب ممالک منجملہ سعودی عرب کے ساتھ اسرائیل کے خفیہ تعلقات اب بتدریج آشکارا ہوتے جا رہے ہیں۔ صیہونی حکومت خطے میں الگ تھلگ ہوچکی ہے اور وہ سعودی عرب کے ساتھ اپنے تعلقات کو علانیہ کر کے اسلامی ممالک میں پائے جانے والے اس تاثر کو ختم کرنے کے درپے ہے کہ صیہونی حکومت کے ساتھ تعلقات قائم کرنا قبیح اقدام ہے اور یوں وہ تنہائی سے نکلنا چاہتی ہے۔ اس کے علاوہ صیہونی حکومت عرب ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات میں توسیع لاکر مشرق وسطی میں پائےجانےوالے توانائی کے ذخائر منجملہ تیل پر تسلط حاصل کرنا چاہتی ہے۔ سعودی عرب ایک اسلامی ملک ہے اور وہ اپنی صلاحیتوں کو ملت اسلامیہ کی خدمت کرنے اور اس کی ترقی و پیشرفت کے لئے استعمال کرنے کے بجائے آل سعود کی خیانت کی وجہ سے ملت اسلامیہ کے دشمنوں یعنی صیہونی حکومت اور داعشی و تکفیری دہشت گردی کی خدمت کر رہا ہےاور اس کے معنی ملت اسلامیہ کے ساتھ خیانت کے علاوہ کچھ اور نہیں ہیں۔