حکومت کی تبدیلی، امریکی حکام کی ایک ناکام پالیسی
امریکہ کے بعض سابق اور موجودہ حکام نے حالیہ ہفتوں کے دوران مختلف طریقوں سے ایران میں حکومت کی تبدیلی اور اسلامی جمہوری نظام کی سرنگونی کی ضرورت کا ذکر کیا ہے۔ ان امریکی سیاستدانوں نے ٹرمپ حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران میں اسلامی نظام کے مخالفین کی تقویت کے سلسلے میں اپنے اقدامات میں تیزی پیدا کریں۔
امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹلرسن کے بیانات کے بعد اس طرح کے بیانات میں اضافہ ہوا ہے۔ ریکس ٹلرسن نے کچھ عرصہ قبل ایران کے داخلی امور میں مداخلت کرتے ہوئے کہا تھا کہ واشنگٹن کی پالیسی یہ ہے کہ ایران میں طاقت کی منتقلی پرامن انداز میں انجام پائے۔ ان بیانات کے بعد امریکہ کے دوسرے سیاستدانوں نے منافقین کے دہشت گرد گروہ ایم کے او کے پیرس میں بلائے جانے والے اجلاس سے فائدہ اٹھاتے ہوئے ایران کے سیاسی نظام کی تبدیلی کا مطالبہ کر دیا۔
البتہ امریکیوں نے پہلی بار ایران میں نظام کی تبدیلی کی بات نہیں کی ہے۔ انہوں نے چونسٹھ برس قبل ایران کی اس وقت کی منتخب اور جمہوری مصدق حکومت کو سرنگوں کر کے ایرانی قوم پر پچیس برسوں کے لئے ایک ڈکٹیٹر حکومت مسلط کر دی تھی۔ امریکی حکومتیں تقریبا چالیس برسوں سے ایران میں اسلامی جمہوری نظام کی سرنگونی ہر حربہ آزماتی چلی آ رہی ہیں اور اب ڈونلڈ ٹرمپ کی حکومت کی نوبت آن پہنچی ہے کہ وہ اس سلسلے میں اپنی قسمت آزمائے۔
بروکنگز انسٹی ٹیوٹ سے تعلق رکھنے والی سوزان مالونی نے ایران میں حکومت کی تبدیلی کی پالیسی کو غلط قرار دیتے ہوئے لکھا ہےکہ واضح سی بات ہے کہ ایران میں حکومت کی تبدیلی کی حکمت عملی ایک بڑی غلطی ہے جس کی بنیاد عدم واقفیت پر ہے۔ ہم ایران میں حکومت کی تبدیلی کے لئے ضروری صلاحیت کے حامل نہیں ہیں اور ایرانی حکام سمیت سب اس بات سے آگاہ ہیں۔ یہ ایک ناکام پالیسی ہے۔ حکومت کی تبدیلی کی حمایت امریکی مفادات کے لئے ایک غیر مفید اقدام ہے۔
اس کے باوجود اس بات کا فراموش نہیں کرنا چاہئے کہ ٹرمپ نے گزشتہ برس اپنی انتخابی مہم کے دوران صراحت کے ساتھ حکومت کی تبدیلی سے متعلق اپنی پیشرو حکومت کی پالیسی کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور اس پالیسی سے دستبردار ہونے کا مطالبہ کیا تھا۔اس زمانے میں انہوں نے اعتراف کیا تھا کہ عراق اور لیبیا میں حکومت کی تبدیلی کی وجہ سے مغربی ایشیا اور شمالی افریقہ میں ہولناک واقعات اور مظالم پر منتج ہوئی اور امریکہ کو چھ ٹریلین ڈالر سے زیادہ کی قیمت چکانا پڑی۔ لیکن ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں داخل ہونے کے بعد دوسری بہت سی پالیسیوں کی طرح اس پالیسی کےبارے میں بھی یوٹرن لے لیا ہے۔
امریکی حکام اس وقت نہ صرف ایران بلکہ شام میں بھی حکومت کی تبدیلی کے درپے ہیں۔ حالانکہ مغربی ایشیا کا علاقہ اس وقت عراق، یمن اور لیبیا میں حکومت کی تبدیلی کی پالیسی کی آگ میں جل رہا ہے۔ عراق اور اس ملک کے سابق ڈکٹیٹر صدام کی سرنگونی حکومت کی تبدیلی پر مبنی امریکی حکام کی ناکام پالیسی کا ایک واضح نمونہ ہے۔
اس وقت کے امریکی وزیر خارجہ کولن پاول نے عراق پر حملے کے کچھ عرصے کے بعد تنقید کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ جنگ سے پہلے توقع رکھتا تھا کہ صدام حکومت کی سرنگونی کا خیر مقدم کیا جائے گا اور عراقی عوام امریکی فوجیوں کی گردنوں میں پھولوں کے ہار ڈالیں گے لیکن امریکی فوجیوں کا گولیوں کے ساتھ استقبال کیا گیا۔ عراق میں امریکہ کو حکومت کی تبدیلی کی قیمت اپنے چار ہزار سے زیادہ فوجیوں کی ہلاکتوں کی صورت میں ادا کرنی پڑی۔ لیبیا میں بھی امریکی قونصل خانے پر حملہ کے دوران امریکہ کا اس وقت کا سفیر ہلاک ہوگیا اور یہ ایسی کم قیمت تھی جو امریکہ کو لیبیا میں حکومت کی تبدیلی سے متعلق اپنی پالیسی کی وجہ سے ادا کرنا پڑی۔
بہرحال حالیہ عشروں میں دنیا میں رونما ہونے والے سیاسی اور سکیورٹی حالات سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ اقوام کی آگہی میں اضافہ ہوا ہے اور بڑی طاقتیں اب پہلے کی طرح موثر نہیں رہ گئی ہیں جس کی وجہ سے اب حکومتوں کی تبدیلی کا عمل مشکل سے مشکل تک ہوتا جا رہا ہے اور اس کی بھاری قیمت چکانا پڑتی ہے۔