سعودی عرب دہشت گردی کا گہوارہ
ایسے میں جبکہ آل سعود دہشت گردی سے مقابلے کا دعویدار ہے، دہشت گرد گروہ احرار الشام کا نیا سرغنہ ایک سعودی باشندہ متعین کیا گیا ہے-
سعودی عرب کی ملک عبدالعزیز یونیورسٹی کا تعلیم کردہ حسن صوفان جو ابوالبراء کے نام سے معروف ہے، دہشت گرد گروہ احرارالشام کے سرغنہ ابوعمار العمر کا جانشین متعین کیا گیا ہے-
دہشت گردی کوئی نئی چیز نہیں ہے لیکن حال ہی میں یہ عالمی خطرے میں تبدیل ہوچکی ہے ان دنوں کوئی بھی ملک اس بات کا مدعی نہیں ہوسکتا کہ وہ دہشت گردانہ حملوں سے محفوظ رہے گا- اس کے باوجود ، جو مسئلہ دہشت گردی کے بارے میں پایا جاتا ہے اور ملکوں کے خلاف خطرہ ہونے میں امتیاز کی وجہ ہے، یہ ہے کہ اول یہ کہ بعض ملکوں کو کم خطرے اور بعض کو زیادہ اور حتی بعض کو روزانہ دہشت گردی کے خطرے کا سامنا ہے اور دوسرے یہ کہ دہشت گرد عناصر بعض ملکوں میں انفرادی طور پر دھماکے اور دہشت گردانہ کاروائیاں کرتے ہیں جبکہ بعض ملکوں جیسے شام میں دہشت گرد عناصر گروپ کی صورت میں، ان ملکوں کی حکومت کے ساتھ جنگ کر رہے ہیں-
بلا شبہ دہشت گرد گروہوں کو وجود میں لانے اور ان کی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں بعض ملکوں کی پالیسیاں اثرانداز رہی ہیں- سعودی عرب ان جملہ ملکوں میں سے ایک ہے کہ جس نے مشرق وسطی میں دہشت گرد گروہوں کو وجود میں لانے اور ان کو بڑھاوا دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے- سعودی عرب 2011 سے شام کی حکومت کا تختہ پلٹنے اور مزاحمتی محور کے حق میں علاقے کی طاقت کا توازن تبدیل نہ ہونے کے درپے رہا ہے- اور اس نے اپنے اس ہدف کو حاصل کرنے کے لئے دہشت گرد گروہوں کی مدد و حمایت کو اپنے ایجنڈے میں قرار دے رکھا ہے-
احرار الشام اور جیش الاسلام کا شمار ان اہم دہشت گرد گروہوں میں ہوتا ہے جو شام کی بشار اسد کی حکومت کے خلاف جنگ کر رہے ہیں اور انہیں سعودی عرب کی حمایت حاصل ہے - اس بناء پر سعودی عرب اور ترکی نے کچھ دنوں قبل، احرار الشام اور جیش الاسلام کو دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کئے جانے کی مخالفت کی تھی-
سعودی عرب دنیا میں دہشت گردی کی سوچ پروان چڑھانے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ سعودی عرب کی ملکی اور غیر ملکی سرگرمیوں پر ایک نظر ڈالنے سے پتہ چل جاتا ہے کہ خطے اور دنیا کی سطح پر دہشت گردی میں ملوث اکثر عناصر کا تعلق یا تو سعودی عرب سے ہے یا وہ سعودی عرب کی وہابیت سے متاثر ہیں اور ان کو آل سعود کی مالی اور اسلحہ جاتی حمایت حاصل ہے۔
ان دہشت گرد گروہوں کی جڑ وہابیت کے غلط اور انتہا پسندانہ نظریات ہی ہیں۔ ان غلط عقائد نے ہی خطے اور دنیا میں آل سعود کی دہشت گردانہ کارروائیوں میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ جیسا کہ اس وقت سعودی عرب کے حمایت یافتہ دہشت گردہ گروہ منجملہ داعش اور القاعدہ ، مختلف ناموں مثلا انصار الشریعہ، بوکوحرام اور الشباب کے ناموں کے ساتھ افریقہ ، ایشیا حتی یورپ میں سرگرم ہیں اور یہ گروہ عالمی سلامتی کے لئے خطرے کی گھنٹی ہیں۔
وکی لیکس کی دستاویزات کے مطابق امریکہ کی سابق وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے اعتراف کیا ہے کہ سعودی عرب دنیا بھر میں دہشت گرد گروہوں کی مالی حمایت کرنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔ ہلیری کلنٹن نے پاکستان میں القاعدہ، طالبان اور لشکرطیبہ کو سعودی عرب کے حمایت یافتہ نمایاں ترین دہشت گرد گروہ قرار دیا ہے اور خبردارکیا ہے کہ آل سعود دنیا بھر میں دہشت گردوں کی مالی حمایت کرتا ہے۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب نائن الیون کے دہشت گردانہ واقعے کے ملزمین میں سے بھی اکثر کا تعلق سعودی عرب سے ہی ہے۔ گیارہ ستمبرکے حملوں سے متعلق تیار کی جانے والی رپورٹ سے ان اٹھائیس صفحات کے نکال دیئے جانے سے ، کہ جن میں ان دہشت گردانہ واقعات میں سعودی عرب کے کردار کا ذکر کیا گیا تھا، اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ سعودی عرب براہ راست دہشت گردی میں ملوث ہے لیکن واشنگٹن ریاض کے ساتھ تعاون کی وجہ سے ان حملوں میں سعودی عرب کے کردار کےمنظر عام پر آنے کا مخالف ہے۔
کہا گیا ہےکہ سعودی عرب سے متعلق صفحات کو رپورٹ سے نکالنے میں امریکہ کی خفیہ ایجنسی سی آئی اے نےبھی اہم کردار ادا کیا ہے۔ ان اقدامات سے گیارہ ستمبر کے واقعے میں آل سعود کےملوث ہونے ، خطے میں ریاض کے اقدامات اور دہشت گرد گروہ وجود میں لانے سے سی آئی اے کے باخبر ہونے کی بھی نشاندہی ہوتی ہے۔ یہ بات اب کسی پر پوشیدہ نہیں ہے کہ سعودی حکومت نے وہابی افکار کےمرکز اور افغانستان سے لے کر امریکہ تک دنیا بھر میں دہشت گرد بھیجنے والے ملک کی حیثیث سے دہشت گردی کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ شام، عراق، یمن ، امریکہ اور یورپی ممالک میں سیکڑوں سعودی شہریوں کی گرفتاریاں اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔
اس میں شک نہیں ہے کہ اگر خطے کے دقیانوس عرب ممالک خصوصا سعودی عرب اور مغربی ممالک کی حمایت اور مدد نہ ہوتی تو دہشت گرد گروہ اپنی کارروائیوں کا دائرہ اس حد تک نہیں بڑھا سکتے تھے۔ تکفیری دہشت گرد گروہ صرف عراق اور شام میں ہی نہیں بلکہ وہ شمالی افریقہ کے بہت سے ممالک مثلا مصر، لیبیا اور تیونس میں بھی سرگرم ہو چکے ہیں۔
دہشت گردی کی برآمدات کو تیل کے بعد سعودی عرب کی دوسری بڑی برآمدات قرار دیا جاسکتا ہے اور سعودی عرب تخریب کاری پر مبنی اپنے اقدامات کی وجہ سےدنیا بھر میں دہشت گردانہ نظریات پروان چڑھانے اور دہشت گردوں کی مدد کرنے والے سب سے بڑے ملک میں تبدیل ہوچکا ہے۔