غزہ پٹی میڈیا کارکنوں کےلئے خطرناک ترین جگہ ہے؛ آنروا کے کمشنر کا اعلان
موریطانیہ کے صحافیوں کی یونین نے تل ابیب کی جانب سے غزہ میں صحافیوں کے داخلے کی ممانعت کا ذکر کرتےہوئے اسے صیہونی حکومت کی جانب سے غزہ کی المناک صورتحال پر پردہ ڈالنے کا اقدام قرار دیا ہے جبکہ آنروا کے کمشنر نے اعلان کیا ہے کہ غزہ پٹی ، نامہ نگاروں اور میڈیا کے کارکنوں کےلئے دنیا کی خطرناک ترین جگہ میں تبدیل ہوگئی ہے-
سحرنیوز/عالم اسلام: موریطانیہ کے صحافیوں کی یونین کے سربراہ احمد طالب ولد المعلوم نے کہا کہ صیہونی حکومت کے قابض حکام کی جانب سے، غزہ پٹی میں غیر ملکی صحافیوں کے داخلے پر پابندی کا مقصد حقیقت کو چھپانا، ناگفتہ بہ صورتحال کو برملا نہ ہونے دینا اور عالمی رائے عامہ تک حقائق کو پہنچانے سے روکنا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ صحافیوں کو غزہ کی پٹی میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے اس خطے میں ہونے والی تباہی اور شہریوں کے حقوق کی خلاف ورزیوں کی شرح ظاہر ہوگی، اور لائیو میڈیا کوریج دنیا کو درست تصویر پہنچانے اور جنگ روکنے کے لیے بین الاقوامی دباؤ میں اضافہ کرنے میں مدد کرے گی-
موریطانیہ کے صحافیوں کی یونین کے سربراہ نے مزید کہا کہ صیہونی حکومت کے توسط سے صحافیوں کو غزہ تک رسائی سے روکنے کا سلسلہ جاری رکھنا آزاد میڈیا کی جانب سے حقائق کو چھپانے کے رجحان کی نشاندہی کرتا ہے۔ میڈیا کی زیادہ سے زيادہ موجودگی خطے کی انسانی صورتحال کے بارے میں رائے عامہ کی زیادہ بیداری کا باعث بنے گی۔
طالب ولد المعلوم نے صحافیوں کی یونینوں، پروفیشنل اداروں اور انسانی حقوق کی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ میڈیا ٹیموں کے لیے گزرگاہوں کو کھولنے اور صحافیوں کے لیے سچائی کے ساتھ رپورٹنگ کرنے میں اپنا کردار ادا کرنے کے مطالبے کے لیے آواز بلند کریں۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
انہوں نے کہا کہ غزہ کی پٹی کی موجودہ صورتحال میں، صحافت کی آزادی کو یقینی بنانے کے لیے ہم آہنگ پیشہ ورانہ اور انسانی حقوق کی کوششوں کی ضرورت ہے تاکہ صحافیوں کو حالات کو منعکس کرنے اور لوگوں کے دکھ درد کو دنیا تک پہنچانے کا موقع میسر آسکے-
غزہ انفارمیشن سینٹر نے غزہ کی پٹی میں صحافیوں کی شہادت کے حوالے سے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں اعلان کیا ہے کہ غزہ میں آٹھ اکتوبر دوہزار تیئیس یعنی جنگ کے آغاز سے اب تک دوسو ساٹھ صحافی شہید ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین آنروا کے کمشنر نے حال ہی میں اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کے لیے دنیا کی سب سے خطرناک جگہ ہے۔
کمشنر جنرل فلپ لازارینی نے کہا کہ غزہ صحافیوں اور انسانی ہمدردی کے کام کرنے والوں کے لیے دنیا کا سب سے خطرناک مقام بن گیا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ صحافیوں کو غزہ میں داخل ہونے سے روکنے سے سنسرشپ اور گمراہ کن خبروں کے پھیلاؤ کو تقویت ملتی ہے۔
حال ہی میں غزہ کے علاقے نتساریم میں مزید تین صحافیوں کی شہادت کے بعد فلسطینی صحافیوں کی حمایت کے مرکز نے ایک بیان جاری کیا جس میں اس بات پر زور دیا گیا کہ مرنے والے صحافیوں کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ دنیا بھر میں انسانی حقوق کی تنظیموں اور میڈیا کے اداروں نے صیہونی حکومت کی جانب سے صحافیوں کو جان بوجھ کر نشانہ بنانے کے خلاف بارہا خبردار کیا ہے لیکن یہ سلسلہ بدستور جاری ہے۔