Aug ۱۴, ۲۰۱۷ ۱۵:۵۸ Asia/Tehran
  • عرب ممالک کے وزرائے خارجہ کے عراق کے دورے

سعودی عرب، مصر، الجزائر اور اردن کے وزرائے خارجہ کے بعد بحرین کے وزیر خارجہ نے بھی بغداد کا دورہ کیا اور اس ملک کے حکام کے ساتھ ملاقاتیں اور مذاکرات کئے ہیں۔

سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے فروری میں ، مصر کے وزیر خارجہ سامح شکری (Sameh Hassan Shoukry) نے جولائی میں، الجزائر کے وزیر خارجہ عبدالقادر مساہل نے آٹھ اگست کو اور اردن کے وزیر خارجہ ایمن الصفدی (Ayman Safadi) نے دس اگست کو بغداد کا دورہ کیا اور عراق کے حکام کے ساتھ ملاقاتیں اور مذاکرات کئے۔ بحرین کے وزیر خارجہ شیخ خالد بن احمد آل خلیفہ نے بھی تیرہ اگست کو بغداد کا دورہ کیا اور عرب پارلیمان کے سربراہ مشعل بن فہم السلمی بھی چودہ اگست کو عراق کا دورہ کر ر ہے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایک ہفتے کے دوران تین عرب ممالک کے وزرائے خارجہ اور عرب پارلیمان کے سربراہ نے عراق کا دورہ کیا۔  عرب ممالک کے سرکاری وفود کے بغداد کے ان دوروں کی اہمیت اس وجہ سے زیادہ ہے کہ سعودی عرب کے کسی بھی وزیر خارجہ کا ستائیس برسوں کے بعد یہ پہلا دورۂ عراق ہے۔ بحرین کے وزیر خارجہ کا بھی  کئی برسوں کے بعد عراق کا پہلا دورہ ہے اور اردن کے وزیر خارجہ نے بھی عراق میں اپنے ملک کا سفارت خانہ  کھولنے کے مقصد سے بغداد کا دورہ کیا ہے۔

یہاں ایک اہم سوال یہ اٹھتا ہے کہ یہ دورے اس وقت کیوں انجام پائے ہیں اور ان دوروں کے مقاصد کیا ہیں؟

اس سوال کا پہلا جواب یہ ہے کہ عراق نے دہشت گردی کا کامیاب مقابلہ کیا ہے اور اب وہ دہشت گرد گروہ داعش کی مکمل بیخ کنی کے بعد والے مرحلے میں داخل ہوچکا ہے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہا جاسکتا ہےکہ عراق نے سیاسی خلفشار اور بدامنی کا مرحلہ بہت زیادہ حد تک طے کر لیا ہے اور عرب ممالک عراق کی موجودہ صورتحال کے پیش نظر اپنے اہم اہداف کے حصول کے درپے ہیں۔ سعودی عرب سفارتی طریقوں اور مقتدی صدر جیسی شخصیات کی میزبانی کر کے عراق میں اپنے اثر و رسوخ کی تقویت کرنا چاہتا ہے۔ اسی تناظر میں نجف اشرف میں سعودی عرب کا قونصل خانہ کھولے جانے کی بات کی گئی ہے۔ اردن اور بحرین جیسے ممالک بھی نئی صورتحال میں عراق کو اپنے ساتھ ملانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عراق میں آئندہ برس چونکہ پارلیمانی انتخابات بھی ہونے والے ہیں اس لئے ان دوروں کا مقصد ان انتخابات پر اثر انداز ہونا بھی ہوسکتا ہے۔

ان دوروں کا دوسرا مقصد اقتصادی مفادات کا حصول بھی ہے مثلا مصر عراق سے تیل کی اپنی ضروریات پوری کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ سعودی عرب عراق کی تعمیر نو کے مرحلے میں سرمایہ کاری کرنے کے ذریعے اس ملک میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کے درپے ہے۔

ان دوروں کا تیسرا اہم مقصد قطر کے ساتھ کشیدگی میں عراق کی حمایت حاصل کرنا ہے۔ عرب ممالک کی حالیہ کشیدگی میں عراق نے غیر جانبداری کی پالیسی اختیار کی۔ اس نے نہ سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کی جانبداری کی اور نہ ہی قطر کی۔ اس لئے عراق میں دہشت گردی کے مقابلے سے متعلق آپریشن کے اختتام پذیر ہونے کے بعد اس ملک میں سیاسی استحکام آئے گا۔ اس لئے  سعودی عرب اور اس کے اتحادی بغداد کو اقتصادی مراعات دے کر قطر کے خلاف اس کی حمایت حاصل کرنے کے لئے کوشاں ہیں۔

ان دوروں کا چوتھا اہم ہدف عراق کے داخلی امور پر اثرانداز ہونا ہے۔ البتہ یہ ایک طویل المیعاد ہدف ہے مثلا سعودی عرب اور بحرین کوشاں ہیں کہ آیت اللہ شیخ عیسی قاسم جیسی شخصیات کے ساتھ ان ممالک نے جو رویہ اختیار کر رکھا ہے اور اس طرح کے جو دوسرے واقعات ان ممالک میں رونما ہو رہے ہیں ان کو عراق مذہبی زاویۂ نگاہ سے نہ دیکھے۔ بالفاظ دیگر یہ ممالک عراق کے مذہبی شیعہ تشخص کے بجائے اس کے قومی یعنی عربی تشخص کو زیادہ نمایاں کرنے کے درپے ہیں۔ اس مقصد کے حصول کے لئے یہ ممالک عراقی کردستان کے علاقے کی عراق سے علیحدگی سے متعلق ریفرینڈم کی بھی مخالفت کر رہے ہیں تاکہ عراقی حکومت پر ثابت کر سکیں کہ وہ عربی تشخص کو ترجیح دیتے ہیں۔

 

ٹیگس