ٹرمپ کے نام طالبان کا خط
گروہ طالبان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نام ایک خط میں خبردار کیا ہے کہ اس ملک میں سولہ برسوں سے امریکی فوجیوں کی موجودگی، بدامنی، عدم استحکام، اور دفتری بدعنوانیوں میں اضافے کا سبب بنی ہے-
طالبان کے خط میں کہا گیا ہے کہ امریکہ، افغانستان پر قبضہ کرنے اور ہزاروں عام شہریوں کے قتل عام کے سبب، اس ملک کے عوام میں قابل نفرت ہوگیا ہے- افغانستان کے طالبان ہمیشہ مختلف بہانوں منجملہ مذہبی تہواروں کے بہانے سے دنیا کے سربراہوں کو مخاطب کرتے ہوئے خط لکھتے ہیں اور خود کو افغان عوام کی جان و مال کا محافظ ظاہر کرتے، اور ان کے حقوق کے دفاع کے دعویدار ہیں-
ٹرمپ کے نام طالبان کے خط میں بھی چند مسائل قابل توجہ ہیں- اول یہ کہ پوری طرح سے یہ بات واضح نہیں ہے کہ یہ خط طالبان کے کس گروہ کی جانب سے لکھا گیا ہے کیوں کہ طالبان، ملاعمر کی ہلاکت اور افغانستان میں داعش دہشت گرد گروہ کے وجود میں آنے کے بعد کئی گروہوں میں تقسیم ہوگئے ہیں-
دوسرے یہ کہ ، یہ خط ایسے وقت شائع کیا گیا ہے کہ جب افغانستان کے صوبے سرپل کے علاقے میرزا اولنگ میں عام شہریوں کے ہولناک قتل عام کے باعث عوام میں طالبان کے خلاف بہت زیادہ نفرت اورغم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور اس خط کی اشاعت سے ممکن ہے کہ طالبان مخالف فضا میں کچھ تغیر آجائے-
تیسرے یہ کہ طالبان ایسے میں خود کو افغان عوام کے حقوق کا دعویدار بتا رہے ہیں کہ جب عام شہریوں کے قتل عام میں ان کا براہ راست یا بالواسطہ ہاتھ ہے اور افغانستان پر امریکہ کا قبضہ جاری رہنے کی اہم وجوہات میں سے ایک ، طالبان کا افغانستان کے امن کے عمل میں شامل نہ ہونا ہے کہ جس کے سبب ایک مناسب بہانہ امریکہ کے ہاتھ لگ گیا ہے -
چوتھا مسئلہ جو ٹرمپ کے نام طالبان کے خط میں قابل توجہ ہے یہ ہے کہ اس سے قبل علماء اور افغانستان کے سرکاری حکام نے حکومت کے ساتھ جنگ جاری رہنے کے نتائج کے بارے میں طالبان کو خبردار کیا ہے-
لیکن یہ گروہ نہ صرف یہ کہ ان انتباہات پر توجہ نہیں دے رہا ہے بلکہ ایسے خطوط شائع کرنے کے ذریعے ایسی صورتحال سے خود کو بری کرنے کے درپے ہے کہ جس نے افغان عوام کے لئے سخت و دشوار حالات پیدا کردیئے ہیں-
صوبہ ننگرہار کے ایک عالم مولوی عبدالظاہر کہتے ہیں
افغانستان میں جنگ دیگر ملکوں خاص طور پر امریکہ کے فائدے میں ہے - ہم طالبان گروہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ افغانستان کے حال پر رحم کرے اور امن کے عمل میں شامل ہوجائے-
طالبان کہ جو خود کو افغانستان میں پشتون قوم کا نمائندہ قرار دیتے ہیں ، امن کے عمل کی مخالفت اور خونریز حملے جاری رکھنے کے ذریعے، پشتنونوں کی آئندہ کی نسل کو خود سے متنفر کر رہے ہیں کیوں کہ ان کا یہ خیال ہے کہ طالبان گروہ اپنے دعووں کے باوجود، نہ صرف افغان عوام کے مفادات کے تحفظ اور انہیں امن و سلامتی فراہم کرنے کے تعلق سے کوئی کوشش نہیں کر رہا ہے بلکہ خود ، افغانستان میں بحران اور بدامنی کے عامل میں تبدیل ہوگیا ہے-
افغانستان کے سابق صدر حامد کرزئی اس بارے میں کہتے ہیں کہ طالبان کو چاہئے کہ وہ اپنے ہتھیار افغانستان کو نابود کرنے کے بہانے ان جگہوں پر استعمال کرے کہ جہاں ملک کے خلاف سازشیں تیار کی جاتی ہیں-
بہر حال ایسا خیال نہیں کیا جاتا کہ افغان عوام کو اس بات کی توقع ہوگی کہ انہیں طالبان کسی طرح کی نصیحت و رہنمائی کریں اور یا امریکہ انہیں نصیحت کرے کیوں کہ طالبان نے اپنے جارحانہ رویوں اور بے گناہ عوام نیز افغانستان کی قانونی حکومت کے خلاف حملے کرکے افغانستان میں امریکہ کے غاصب فوجیوں کی موجودگی کے لئے حالات سازگار بنائے ہیں اوراگر طالبان واقعا اس ملک میں امن و آشتی کے قیام اور امریکی فوج کے اس ملک سے چلے جانے کے خواہاں ہیں تو انہیں چاہئے کہ افغانستان کے امن عمل میں شامل ہوجائیں اور قومی اتحاد و وحدت کی تقویت میں مدد کے ذریعے اس ملک کی آئندہ نسلوں کے لئے روشن مستقبل کی راہ ہموار کریں-