فلسطینی عوام کی استقامت کا اسرائیلی فوج کی جانب سے اعتراف
تیس مارچ سے جاری فلسطینیوں کے پرامن واپسی مارچ پر اسرائیل کے وحشیانہ حملوں کے جواب میں آتشگیر مادے سے لیس فلسطینیوں کی پتنگیں اور غبارے صیہونی حکومت کو نقصان پہنچانے والے ہتھیار میں تبدیل ہوگئے ہیں۔
اس سلسلے میں اسرائیل کے رزرو فوجی افسر یسرائیل زئیف نے پیر کے روز اعتراف کیا ہے کہ اس حکومت کی فوج ، فلسطینیوں کے آتشگیر مادے سے لیس پتنگوں اور غباروں کے سامنے عاجز اور ناتواں ہے۔ فلسطینی نوجوان، صیہونی حکومت کے توسط سے پرامن مظاہروں کو سرکوب کرنے کے جواب میں آتشگیر مادوں سے لیس پتنگوں اور غباروں کو مزاحمتی ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہے ہیں اور صیہونی مراکز کو آگ لگا رہے ہیں۔ فسلطینی نوجوان، وطن واپسی کے عظیم مظاہروں کے آغاز کے ساتھ ہی، اس وقت غزہ میں مزاحمت و استقامت کے نئے مرحلے میں داخل ہوگئے ہیں- صہیونی حکومت کے وزیر اعظم بنیامین نتن یاہو نے صیہونی بستیوں کی جانب ارسال کئے جانے والے آتشگیر مادے سے لیس غباروں اور پتنگوں کو اس حکومت کے لئے حقیقی ڈراؤنا خواب قرار دیا ہے-
اسرائیل کے وحشیانہ قتل عام اور مظالم کے خلاف فلسطینی نوجوانوں کے توسط سے گذشتہ چند مہینوں کے دوران آتشگیر مادوں والی پتنگوں اور غباروں نے درحقیقت صیہونی حکومت کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ہے اور یہ حکومت تمام تر وسائل سے لیس ہونے کے باوجود ابھی تک ان آتشگیر مادوں کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکی ہے۔ اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے اعلان کیا ہے کہ آتشگیر مادوں سے لیس کچھ غبارے، کہ جنہیں فلسطینوں نے تیار کیا ہے تل ابیب تک پہنچے ہیں اور وہ "بن گورین ایئرپورٹ" پر گرے ہیں-
اسرائیلی حکام اور فوج نے اب تک غزہ میں تیار کئے جانے والے ان آتشگیر مادوں سے مقابلے کے لئے دسیوں جلسے منعقد کئے ہیں تاہم ان کو ختم کرنے کے لئے وہ کوئی راہ حل نہیں نکال سکے ہیں اور اس کو روکنے سے عاجز ہیں- غزہ کے باشندے کہ جو بارہ برسوں سے اسرائیل کے سخت محاصرے میں ہیں اور بیرونی دنیا سے ان کا کوئی رابطہ نہیں ہے اور حتی اپنے ابتدائی ترین حقوق سے بھی محروم ہیں، اپنی تخلیقی مزاحمتی حکمت عملی کے ذریعے اب تک صیہونی حکومت کو بھاری نقصانات سے دوچار کرچکے ہیں-
اخبار رای الیوم نے "فلسطینیوں کے آتشگیر غباروں اور پتنگوں سے صیہونیوں میں وحشت" کے زیر عنوان ایک مقالے میں تجزیہ کرتے ہوئےلکھا کہ یہ آتشگیر مادوں سے لیس غباروں اور پتنگوں کو فلسطینیوں کا پہلا طیارہ قرار دیا جاسکتا ہے کہ جو صیہونیوں میں وحشت پھیلنے کا باعث بنا ہے، اور اس کا نام ایف ون طیارہ رکھا ہے کیوں کہ فلسطینیوں نے اسرائیلیوں اور یہودی بستیوں میں بسنے والوں کے درمیان خوف و دہشت پیدا کرکے یہ ثابت کردیا ہے کہ وہ اپنے قوی و مستحکم ارادوں کے ذریعے فلسطین اور مقدس مقامات کی حمایت کے لئے اپنی دسترس میں موجود تمام تر وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے اپنی مزاحمت جاری رکھیں گے اور غاصب صیہونی حکومت جب تک اپنا غاصبانہ قبضہ جاری رکھے گی ، رعب و وحشت کا سایہ اس کے سر پر منڈلاتا رہے گآ-
آتشگیر مادوں کی حامل پتنگیں اور غبارے فلسطینیوں کی جدت عمل ہے کہ جس نے ایک عظیم حرکت کے ساتھ ہی ، وطن واپسی کے مظاہروں کو مفہوم عطا کیا ہے اور صیہونیوں کے لئے خطرے پیدا کر دیئے ہیں۔ قابل غور نکتہ یہ ہے کہ صیہونی حکومت کے خلاف احتجاجی تحریکوں میں فلسطینی نوجوانوں کی بھرپور شرکت، نئی نسل میں صیہونی حکومت کے خلاف پائیدار مزاحمت کے جاری رہنے کی علامت ہے۔
مزاحمتی تحریکوں کے حملوں نے صیہونی حکومت کو شدید خوف و ہراس میں مبتلا کر دیا ہے۔ درحقیقت اسرائیل نے جب غزہ پر اپنا ناجائز قبضہ ختم کیا تھا اس وقت فلسطینی گروہ آج کی طرح طاقتور نہیں تھے اور اگر اسرائیل ایک بار پھر غزہ پر قبضہ کرنے کی کوشش کرتا ہے تو بدامنی اور جنگ کا دائرہ پورے مقبوضہ فلسطین تک پھیل جانے کا اندیشہ ہو جائے گا۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ اسرائیل اس پوزیشن میں نہیں ہے کہ وہ فلسطین کی مزاحمتی تنظیموں کے خلاف کوئی بھرپور جنگ شروع کر سکے کیونکہ رہبر انقلاب اسلامی آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کے بقول پچھلے چند عشروں سے اسرائیل کو حملہ کر کے بھاگ جانے کی عادت پڑ گئی ہے۔آخری بات یہ ہے کہ اسرائیل، فلسطین کی مزاحمتی تنظیموں کی عوامی حمایت اور اسی طرح عالم اسلام میں اسرائیل کے خلاف پائے جانے والی نفرت میں اضافے جیسے معاملات سے بھی سخت خوفزدہ ہے۔