استقامتی معیشت کی پالیسی میں نجی شعبے کے کردار پر تاکید
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے استقامتی معیشت کی پالیسی کے نفاذ میں نجی شعبے کے کردار کو انتہائی اہم قرار دیا ہے۔
صدر مملکت نے یہ بات منگل کو صوبہ البرز میں نجی شعبے کے تعاون سے قائم ہونے والی مشرق وسطی کی سب سے بڑی غلہ فیکٹری کے افتتاح کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ رہبر انقلاب اسلامی نے رواں ایرانی سال کو استقامتی معیشت اور اقدام و عمل کا نام دیا تھا اور حکومت اس پر عمل درآمد کے لیے اپنی پوری توانائیاں بروئے کار لا رہی ہے۔
صدر ایران نے غلہ فیکٹری کے افتتاح کو انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ملک کی پہلی ایسی فیکٹری نے کہ جہاں مکئی کے دانوں کو شیرے میں تبدیل اور دنیا بھر میں برآمد کیا جائے گا۔
قابل ذکر ہے کہ اسلامی انقلاب کی اڑتیسویں سالگرہ کے موقع پر صدر مملکت نے صوبہ البرز میں متعدد صنعتی یونٹوں کا افتتاح کیا جس میں غلہ فیکٹری سب سے بڑا منصوبہ ہے۔ اس عظیم کارخانے میں مختلف قسم کے غلات کو مختلف ذیلی صعنتوں کے لیے خام مال میں تبدیل کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔
اس کارخانے کی تیار کردہ مصنوعات مختلف قسم کی غذائی اشیا کی تیاری میں استعمال کی جاتی ہیں اور اس کے آغاز سے ایران نہ صرف اس قسم کے مواد کی تیاری میں خود کفیل ہوگیا بلکہ بیرون ملک برآمد بھی کرنے کے قابل ہو گیا ہے۔