شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرے 17 جاں بحق، ہزاروں زخمی اور گرفتار
شہریت ترمیمی قانون کے خلاف ہندوستان بھر میں احتجاج مزید شدت اختیار کرتا جارہا ہے ۔ جمعہ کو دہلی سمیت ملک کی مختلف ریاستوں میں ہزاروں کی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکلے اور سی اے اے کی مخالفت میں اپنی آواز بلند کی ۔ اس درمیان کئی مقامات سے پولیس اور مظاہرین میں جھڑپ کی بھی خبریں موصول ہورہی ہیں ۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے گلف نیوز کے مطابق شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج کے دوران اب تک ہندوستان کے کئی شہروں میں ہلاکتوں کی تعداد 14 جبکہ بعض اطلاعات کے مطابق 17 ہو گئی ہے، جبکہ اترپردیش میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں سات افراد جاں بحق اور 38 پولیس اہلکاروں سمیت 50 سے زیادہ لوگ زخمی ہوگئےجبکہ موبائل انٹرنیٹ خدمات اور براڈ بینڈ سروسز کو معطل کردیا گیا ہے۔ دارالحکومت دہلی کے مختلف علاقوں میں بھی مختلف تنظیموں کی جانب سے مظاہرہ کئے گئے ۔
نئی دہلی میں وزیر داخلہ اُمیت شاہ کی رہائشگاہ کی جانب پیدل مارچ کرنے والے کانگریس پارٹی کے قافلے کو روکا گیا اور سابق صدر پرناب مکھرجی کی بیٹی سرمشٹھا مکھرجی کو حراست میں لے لیا گیا۔