شہریت ترمیمی قانون کی منسوخی تک احتجاج جاری رکھنے کا اعلان
امارت شرعیہ بہار کی کال پر ہونے والے اجلاس میں این ڈی اے کے علاوہ تمام سیاسی پارٹیوں کے لیڈروں نے شرکت کی ۔
سی اے اے، این آر سی اور این پی آر کے خلاف پورے ہندوستان میں احتجاج جاری ہے۔ جبکہ خواتین کا علیحدہ سے زبردست احتجاج چل رہا ہے۔ اس درمیان شہریت قانون، این پی آر اور این آر سی کے خلاف امارت شرعیہ نے کل جماعتی اجلاس منعقد کیا جس میں سماجی، سیاسی، مذہبی وملی تنظیموں کے رہنماوں نے شرکت کی۔
اس موقع پر امارت شرعیہ بہار کے امیر شریعت اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے جنرل سکریٹری مولانا ولی رحمانی نے واضح کیا کی مرکزی حکومت کی جانب سے یہ کہنا کہ یہ قانون شہریت دینے والا، شہریت چھیننے والا نہیں ہے، یہ سراسر دھوکہ ہے، کیوں کہ سی اے اے کو این آر سی سے جوڑ کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔ حکومت کی پالیسی ہے کہ جو لوگ کاغذ کے ذریعہ اپنی شہریت ثابت نہیں کرسکیں گے ان کو سرکار کے ذریعہ پریشان کیا جائےگا۔ اس لئے ہم سبھی اس قانون کو پوری طرح سے مسترد کرنے کا اعلان کرتے ہیں کہ ہم کسی بھی حال میں سی اے اے، این پی آر اور این آر سی کو قبول نہیں کریں گے۔
اجلاس میں فیصلہ کیاگیا کی اس قانون کے خلاف اس وقت تک احتجاج جاری رکھیں گے جب تک قانون واپس نہ لیا جائے۔
پورے ملک میں جہاں جہاں اس قانون کے خلاف احتجاج ہورہا ہے اس کا پوری طرح سے ساتھ دیا جائے۔
مولانا ولی رحمانی نے کہا کی یہ قانون مسلم سماج کے لئے جتنا نقصان دہ ہے اتنا ہی ہندو سماج کے لئے بھی، اسلئے ہندو سماج کو اس قانون کی خامیوں سے واقف کرایا جائے اور انہیں بھی احتجاج اور مظاہروں میں شریک کیا جائے۔