مہاراشٹر کا مذہب تبدیلی قانون مذہبی آزادی کے لیے خطرہ ہے: مولانا مدنی
جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے مہاراشٹر فریڈم آف ریلیجن ایکٹ 2026 کے نفاذ پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کی بعض دفعات شہریوں کی مذہبی آزادی، آزادیٔ ضمیر، پرائیویسی اور شخصی خود اختیاری کے آئینی حقوق سے متصادم ہیں۔
سحرنیوز/ہندوستان: جمعیۃ علماء ہند کے صدرمولانا مدنی نے کہا کہ مذہبی آزادی کے تحفظ کے نام پر ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو خود اسی آزادی کو محدود کرے۔ ان کے مطابق آئین ہند کی دفعہ 25 ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل اور اس کی تبلیغ کا حق دیتی ہے، جبکہ ’لالچ‘ اور ’فریب‘ جیسی مبہم اصطلاحات کے باعث پُرامن مذہبی تبلیغ بھی متاثر ہوسکتی ہے۔
جمعیۃ علماء ہند کے صدر نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند اتر پردیش، گجرات اور مدھیہ پردیش کے تبدیلیٔ مذہب مخالف قوانین کو پہلے ہی سپریم کورٹ میں چیلنج کر چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کو شہریوں کے نجی مذہبی انتخاب اور ضمیر کی نگرانی کا اختیار نہیں دیا جا سکتا۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
مولانا مدنی نے واضح کیا کہ جمعیۃ علماء ہند جبری یا دھوکہ دہی کے ذریعے تبدیلیٔ مذہب کے خلاف ہے، تاہم مذہبی آزادی کے تحفظ کے نام پر کسی قانون کو کسی مخصوص کمیونٹی کے خلاف استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔