Dec ۰۳, ۲۰۱۵ ۱۷:۳۲ Asia/Tehran
  • آئی اے ای اے کی رپورٹ بورڈ آف گورنرز کے سپرد
    آئی اے ای اے کی رپورٹ بورڈ آف گورنرز کے سپرد

آئی اے ای اے کے ڈائریکٹرجنرل یوکیا آمانو نے ایران میں ماضی اور حال کی ایٹمی سرگرمیوں سے متعلق مسائل کے بارے میں حتمی رپورٹ بورڈ آف گورنرز کے پینتس ارکان کے سپرد کردی ہے

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے ایران نے ماضی اور حال کے باقی ماندہ ایٹمی مسائل کے بارے میں ضروری وضاحتیں اور دستاویزی ثبوت آئی اے ای اے کو فراہم کردیئے ہیں۔

یوکیا آمانو نے اپنی رپورٹ کے مقدمے میں ، سن دوہزار دو میں آئی اے ای اے میں ایران کے ایٹمی کیس کے جائزے کے عمل، ایران کے ایٹمی کیس کو سلامتی کونسل میں بھیجے جانے، اور سلامتی کونسل کی منظور کردہ قرارداد کا از سرنو جائزہ لیا ہے۔

رپورٹ کے دوسرے حصے میں ایران اور چھے بڑی طاقتوں کے درمیان جوہری مذاکرات کے نئے دور کے آغاز کے ساتھ ایران اور آئی اے ای اے کے درمیان تعاون کے فریم ورک کے لیے بات چیت،نومبر دوہزار تیرہ میں، تعاون کے فریم ورک کے بارے میں جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ اور سلامتی کونسل کی قرارداد دوہزار دوسو اکتیس کا ذکر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے تیسرے حصے میں ، جولائی دوہزار پندرہ میں ایران اور آئی اے ای اے کے کےدرمیان طے پانے والے روڈ میپ کا ذکر کیا گیا ہے جس میں ایران کی ماضی اور حال کی جوہری سرگرمیوں کے بارے میں تمام باقی ماندہ مسائل کو سن دوہزار پندرہ کے اختتام تک حل کرنے کی بات کی گئی ہے۔

آئی اے ای اے کے ڈائریکٹر جنرل نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ ، جوہری توانائی کے عالمی ادارے کو سن دوہزار نو کے بعد سے ایران میں ایٹمی دھماکے کرنے کے کسی بھی آلے کے بارے میں تحقیق اور توسیع سے متعلق قابل بھروسہ شواہد نہیں ملے ۔ دوسرے یہ کہ ایران کی اعلان کردہ جوہری سرگرمیوں کے علاوہ کسی بھی طرح کی جوہری سرگرمیوں یا فوجی مقاصد کی جانب انحراف کا بھی کوئی ثبوت نہیں ملا ہے۔

البتہ یوکیا آمانو نے رپورٹ کے مقدمے اور جوہری کیس کے از سر نو جائزے کے عمل میں یہ دعوی کیا ہے کہ آئی اے ای اے کی آبزرویشن یہ ہے کہ دوہزار تین کے اختتام سے پہلے پہلے ایران میں جوہری دھماکے، کے کسی آلے کے بارے میں تحقیق اور ترقی کا کام انجام پایا ہے اور یہ سرگرمیاں دوہزار تین کے بعد بھی جاری رہی ہیں تاہم رپورٹ میں صراحت کے ساتھ کہا گیا ہے کہ یہ سرگرمیاں ممکنہ مطالعاتی حد سے آگے نہیں بڑھیں اور دوسرے یہ کہ فنی اعتبار سے ان کے نتا‏ئج کی کوئی قابل قدر اہمیت نہیں تھی۔

آئی اے ای اے کا بورڈ آف گورنرز پندرہ دسمبر کو ڈائریکٹرجنرل یوکیا آمانو کی اس رپورٹ کا جائزہ لے کر اس بارے میں حتمی فیصلہ کرے گا۔

ایران کے نائب وزیر خارجہ اور سینیئر ایٹمی مذاکرات کار عباس عراقچی نے رپورٹ پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی جوہری سرگرمیوں میں فوجی مقاصد کی جانب انحراف کی کوئی علامات موجود نہیں ہیں اور یہ کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کا پرامن ہونا ثابت ہوگیا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آئی اے ای اے کی رپورٹ میں ایسی بھی کوئی عبارت نہیں ہے کہ جس کی بنیاد پر یہ دعوی کیا جاسکے کہ ایران نے اپنے وعدوں پر عمل نہیں کیا ہے۔ بنا برایں پانچ جمع ایک گروپ کے رکن ممالک ، جامع ایٹمی معاہدے جے سی پی او اے کے تحت، ایران کے ایٹمی کیس کو بورڈ آف گورنرز میں ہمیشہ کے لیے بند کرنے کی قرارداد پاس کریں اور بورڈ آف گورنرز بھی اس قرراداد کی منظور ی اور کیس کو بند کرنے کے لیے لازمی اقدامات کرے۔

آئی اے ای اے میں ایران کے نمائندے محمد رضا نجفی نے یوکیا آمانوکی رپورٹ کو بیلنس رپورٹ قرار دیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ رپورٹ ایران کی ایٹمی سرگرمیوں میں عدم انحراف کا ثبوت ہے اور رپورٹ میں کسی بھی جگہ یہ نہیں کہا گیا ہے کہ ایران نے طے شدہ معاہدوں اور وعدوں کی پاسداری سے گریز کیا ہے۔

ٹیگس