سعودی عرب مہم جوئی اور لڑائی کے راستے پر گامزن: محسن رضائی
تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے سعودی عرب کی پالیسیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ آل سعود حکومت خطے میں مہم جوئی اور لڑائی کے درپے ہے۔
اسنا خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سیکریٹری محسن رضائی نے جمعے کے دن مغربی ایران میں واقع صوبہ خوزستان کے شہر باغملک کے شہدا کی یاد منائے جانے کی رسومات کے موقع پر تقریر کی۔
محسن رضائی نے سامراجی طاقتوں کی جانب سے ایرانی قوم پر ڈالے جانے والے دباؤ کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ مختلف بہانوں کے ساتھ ہماری ملت پر جنگ اور پابندیاں مسلط کرنے کا مقصد ایرانی قوم کو ترقی و پیشرفت سے روکنا ہے۔
محسن رضائی نے مزید کہا کہ امریکہ اور اسرائیل ان ممالک کی حمایت کرتے ہیں جو انسانی حقوق کو پامال کرتے ہیں اور جن میں جمہوریت بھی نہیں ہے جبکہ یہ دونوں ممالک ایران پر پابندیاں عائد کرتے ہیں۔
تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سیکریٹری نے کہا کہ سعودی عرب کی حکومت شروع سے ہی فلسطینی عوام کے مقابلے میں رہی ہے ۔ جمال عبدالناصر اور فلسطینی حمایت کے محاذ کے لئے سعودی عرب کی ایک مشکل رہی ہے۔ حالیہ ستّر برسوں کے دوران سعودی عرب اور اسرائیل نے اسلامی دنیا کی ترقی و پیشرفت کی راہ میں رکاوٹیں ڈالنے کی کوشش کی ہے اور اب بھی سعودی عرب کے اقدامات صدام حسین کے اقدامات کے ساتھ ملتے جلتے ہیں۔
محسن رضائی کا مزید کہنا تھا کہ صدام نے آیت اللہ باقر الصدر کو شہید کیا اور سعودی عرب نے آیت اللہ باقر النمر کو شہید کیا ہے۔ سعودی عرب نے صدام کی بعثی حکومت کی طرح ہمارے ساتھ تعلقات منقطع کئے ہیں۔ ان باتوں سے پتہ چلتا ہے کہ سعودی عرب مہم جوئی اور لڑائی کے راستے پر گامزن ہے۔
محسن رضائی نے آل سعود کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تم کس کا مشن انجام دے رہے ہو؟ تم خطے میں امن قائم کیوں نہیں ہونے دے رہے؟ تم لوگ صدام حسین کے راستے پر آگے نہ بڑھو۔ خطے کے امن کو تباہ نہ کرو۔ اپنے عوام کو آزادی اور انصاف فراہم کرو اور ایران کی آواز دبانے کا خیال ہمیشہ کے لئے اپنے ذہن سے نکال دو۔