ایران اور اٹلی کے درمیان مزید چار سمجھوتوں پر دستخط
ایران اور اٹلی نے اقتصادی اور تجارتی تعاون کے مزید چار اہم سمجھوتوں پر دستخط کئے ہیں۔
تہران میں ایران اور اٹلی کے تاجروں اور صنعتکاروں کی دوسری کانفرنس کے موقع پر دونوں ملکوں کی نجی کمپنیوں نے ایران اور اٹلی کے اعلی حکام کی موجودگی میں چار مختلف شعبوں میں بڑے سمھجوتوں پر دستخط کئے۔ سمجھوتوں پر دستخط کی تقریب میں ایران کے وزرائے ٹرانسپورٹ اور زراعت اور ایران کے پٹرولیم کے نائب وزیر عباس آخوندی، محمود حجتی اور امیر حسین زمانی نیا جبکہ اٹلی کے وزرائے زراعت اور ٹرانسپورٹ نے شرکت کی۔
ایران اور اٹلی کے نجی شعبوں کی کمپنیوں نے ریلوے، آفٹر سیل سروس، تیل و گیس اور تجارتی و اقتصادی نمائشوں کے انعقاد کے میدانوں میں تعاون کے سمجھوتوں پر دستخط کئے۔ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ ریلوے کے شعبے میں جو سمجھوتہ ہوا ہے اس کے مطابق ریلوے کے شعبے میں تعاون کو وسیع کرنے پر اتفاق ہونے کے ساتھ ساتھ ایران، اٹلی سے ریلوے کے وسائل خریدے گا جبکہ آفٹر سیل سروس کے تعلق سے ہونے والے سمجھوتے کے مطابق اٹلی سے جدید ٹیکنالوجی بھی حاصل کرے گا۔
ایران نے تیل و گیس کی صنعت میں کام آنے والے وسائل و آلات کی خریداری کے لئے بھی اٹلی سے معاہدہ کیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت اٹلی، ایران کو تیل کی صنعت سے متعلق جدید ترین ٹیکنالوجی بھی فراہم کرے گا اور تیل کی صنعت میں کام آنے والے اہم وسائل اور پرزوں کی فیکٹریاں بھی اطالوی کمپنیوں کی شراکت سے لگائی جائیں گی جبکہ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے یہاں تجارتی اور اقتصادی نمائشوں کے انعقاد اور تجارتی وفود اور صنعت کاروں کی آمد و رفت کو منظم کرنے کے تعلق سے بھی معاہدہ کیا ہے۔
واضح رہے کہ اس وقت اٹلی کی ایک سوستانوے کمپنیوں کے تین سو دس نمائندوں پر مشتمل تجارتی اور اقتصادی وفد تہران کے دورے پر ہے۔ دو ہفتے قبل ایران کے تجارتی اور اقتصادی وفد نے بھی اٹلی کا دورہ کیا تھا۔