Jun ۰۶, ۲۰۱۶ ۱۵:۰۰ Asia/Tehran
  • دہشت گردی کی آگ جلد یا بدیر دہشت گردی کی حمایت کرنے والے ملکوں منجملہ سعودی عرب تک بھی پہنچ جائے گی : ایران

اسلامی جمہوریہ ایران نے کہا ہے کہ دہشت گردی کی آگ جلد یا دیر دہشت گردی کی حمایت کرنے والے ملکوں منجملہ سعودی عرب تک بھی پہنچ جائے گی- تہران نے اسی طرح دہشت گردی سے متعلق امریکا کی سالانہ رپورٹ کو بھی سختی کے ساتھ مسترد کر دیا ہے

اسلامی جمہوریہ ایران نے امریکا کی طرف سے ایران کو دہشت گردوں کے حامی ملکوں کی فہرست میں قرار دینے والی رپورٹ کو بے بنیاد دعووں کی تکرار قرار دیتے ہوئے اس کو مسترد کر دیا ہے-

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان جابری انصاری نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ ایران مخالف امریکا کی رپورٹ کی تہران کی نگاہ میں کوئی اہمیت نہیں ہے- انہوں نے کہا کہ اس رپورٹ کو صرف امریکا کے بے بنیاد د‏عوؤں کی تکرار اور امریکی حکومت کا نظریاتی ایجنڈا قرار دیا جا سکتا ہے جو ہر سال پیش کیا جاتا ہے -

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ اس رپورٹ میں امریکا نے انتہائی آشکارہ حقائق کو بھی مدنظر نہیں رکھا کیونکہ اسلامی جمہوریہ ایران خود ان ملکوں میں ہے جو سب سے زیادہ دہشت گردی کا نشانہ بنے ہیں اور دہشت گردی کے واقعات میں ایران کے سترہ ہزار شہری جن میں اہم سیاسی، مذہبی اور فوجی شخصیات شامل ہیں شہید ہوئے ہیں - ان کا کہنا تھا کہ جو دہشت گرد ایران کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیاں انجام دیتے ہیں مغرب اور امریکا ہمیشہ ان کی حمایت کرتا رہا ہے -

ترجمان وزارت خارجہ نے کہا کہ ایران اس وقت دہشت گردی اور تکفیری دہشت گرد گروہوں کےخلاف جنگ میں پیش پیش ہے - وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایٹمی معاہدے پر عمل درآمد کے تعلق سے مغربی ملکوں کی وعدہ خلافیوں اوراس سلسلے میں ایران کے صبروتحمل کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایٹمی معاہدے کی خلاف ورزیوں کا معاملہ اس معاہدے کی نگرانی کرنے والی اعلی کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے گا اور اس سلسلے میں وہاں آخری فیصلہ کیا جائےگا - ان کا کہنا تھا کہ ایران کی وزارت خارجہ اور دیگر متعلقہ ادارے معاملات کو مذکورہ کمیٹی تک پہنچا رہےہیں -

وزارت خارجہ کے ترجمان نے ایران اور جنرل قاسم سلیمانی کے خلاف سعودی عرب کے حالیہ الزامات اورعراق کے شیعہ مسلمانوں کے قتل عام کا جواز فراہم کرنے کے لئے فلوجہ میں اہل سنت عراقی باشندوں کا سعودی عرب کے ہاتھوں قتل عام کا منصوبہ فاش ہونے کے بارے میں کہا کہ سعودی عرب پچھلے کئی برسوں سے دہشت گردی کو ایک حربے کے طور پر استعمال کر رہا ہے -

انہوں نے علاقے میں سرگرم دہشت گرد گروہوں کے لئے سعودی عرب کی مالی اور لاجیسٹک حمایت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر چہ اس قسم کے اقدامات ظاہری طور پر سعودی عرب جیسے ملک کے مفادات کو پورا کر رہے ہیں لیکن اس کا فائدہ بہت ہی مختصر مدت کے لئے ہوگا کیونکہ دہشت گردی کی آگ جلد یا دیر خود سعودی عرب اور دہشت گردی کے حامی دیگر ملکوں تک پہنچے گی-

ان کا کہنا تھا کہ آج بہت سے سیاسی اور صحافتی حلقے اس نتیجے پر پہنچ گئے ہیں کہ علاقے اور دنیا کی بہت سی مشکلات کا سبب دہشت گردی کو حربے کے طور پر استعمال کرنے پر مبنی سعودی عرب کی پالیسیاں ہیں -

 

ٹیگس