علاقے میں امن و استحکام کی برقراری کے لئے ایران اور ترکی کے تعاون پر زور
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا ہے کہ علاقے اور خاص طور پر شام اور عراق میں استحکام، ایران اور ترکی کے درمیان تعاون کی بنیاد بننا چاہئے۔
صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے ہفتے کو تہران میں ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاؤش اوغلو سے ملاقات میں کہا کہ موجودہ حساس صورتحال میں دونوں ملکوں کے درمیان تعاون اور ہم فکری، علاقے کے امن و استحکام کے حق میں ہے اور مسائل کے حل میں بھی موثر واقع ہو سکتی ہے-
صدر ڈاکٹرحسن روحانی نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایران اور ترکی علاقے کے اہم اصولوں کے بارے میں ایک جیسے نظریات رکھتے ہیں، کہا کہ عراق اور شام کے اقتدار اعلی اور ارضی سالمیت کا تحفظ ، ان ملکوں میں جنگ و خونریزی کو بند کرانا اور پناہ گزینوں کی ان کے گھروں کو واپسی میں مدد دینا، ایسے اقدامات ہیں جو علاقے میں بحرانوں کے حل کے لئے انجام پانے جاہئیں۔
صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ ایران اور ترکی کے درمیان دوطرفہ تجارتی لین دین کو بڑھانے کے لئے جو معاہدے ہوئے ہیں ان پر عمل درآمد کے لئے دونوں ملکوں کی توانائیوں سے استفادہ کیا جانا چاہئے اور اس کے لئے دونوں ملکوں کے حکام کی کوششیں ضروری ہیں-
انہوں نے ترکی میں پندرہ جولائی کی ناکام فوجی بغاوت کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ترک عوام نے اس دن یہ ثابت کر دیا کہ وہ اپنے ووٹوں اور جمہوریت کے وفادار ہیں جبکہ مغرب نے ڈیموکریسی کے معاملے میں دوہرے معیار اپنائے ہیں اور جمہوریت کے تعلق سے وہ صحیح معنوں میں وفادار نہیں ہے-
ترک وزیرخارجہ مولود چاؤش اوغلو نے بھی اس ملاقات میں عراق کے شہر حلّہ میں دہشت گردانہ حملے میں ایرانی زائرین کی شہادت پر تعزیت پیش کرتے ہوئے کہا کہ علاقے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ اور خطے میں امن قائم کرنے کے تعلق سے ایران کا کردار تعمیری اور اہم ہے۔