افغانستان کے لئے امداد جاری رکھنے پر صدر روحانی کی تاکید
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے افغانستان میں امن و سلامتی کو یقینی بنانے کے لئے ایران کی کوششوں اور انسان دوستانہ امداد کی فراہمی کو جاری رکھنے پر زور دیا ہے۔
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے تہران میں افغانستان کے چیف ایگزیکٹیو عبداللہ عبداللہ سے ملاقات میں امن و سلامتی، سیاسی استحکام اور قومی اتحاد کو افغانستان کی ترقی اور افغان عوام کی رفاہ و آسائش کی بنیاد قرار دیا اور کہا کہ ایران افغان عوام اور حکومت کی مدد کرنے کوئی دریغ نہیں کرے گا-
انہوں نے افغان حکومت اور عوام کی جانب سے تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی کی رحلت پر تعزیت پیش کئے جانے کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں سیاسی استحکام اور قومی اتحاد کی بدولت مشترکہ پروجیکٹ پر تیزی کے ساتھ عمل کیا جا سکے گا-
صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ ایران کی جنوب مشرقی بندرگاہ چابہار کی ترقی اور ریلوے نظام کی تقویت منجملہ ایران کی ریلوے لائن کے، افغانستان کے شہر ہرات سے متصل ہو جانے سے تہران اور کابل کے مابین تعاون میں تیزی سے فروغ آئے گا-
صدر ڈاکٹرحسن روحانی نے دہشت گردی کو نہ صرف افغانستان بلکہ پوری دنیا کے لئے ایک بڑا چیلنج قرار دیا اور اس کا مقابلہ کرنے کی ضرورت پر تاکید کی-
افغانستان کے چیف ایکزیکٹیو عبداللہ عبداللہ نے بھی، جو تشخیص مصلحت نظام کونسل کے سربراہ آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی کی رحلت پر تعزیت پیش کرنے کے لئے ایک وفد کے ہمراہ تہران کے دورے پر ہیں، کہا کہ آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی افغان عوام میں ایک مقبول شخصیت تھے اور افغان عوام سخت حالات میں ان کے ذریعے فراہم کی گئی انسان دوستانہ امداد کو کبھی فراموش نہیں کریں گے-
عبداللہ عبداللہ نے افغانستان میں قیام امن سے متعلق مذاکراتی عمل اور ملک کی اندرونی صورت حال کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ایران ہمیشہ ہی افغان عوام اور حکومت کا حامی رہا ہے اور افغان حکومت تمام میدانوں میں دوست اور برادر ملک اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعلقات کو زیادہ سے زیادہ سے فروغ دینے کا تہیہ کئے ہوئے ہے-