Jun ۲۸, ۲۰۱۷ ۱۸:۲۱ Asia/Tehran
  • شام پر امریکی جارحیت علاقے میں مزید بدامنی کا باعث، وزارت خارجہ کے ترجمان کا بیان

ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ جھوٹے بہانوں سے شام پر امریکہ کے ممکنہ فوجی حملے سے علاقے میں بدامنی مزید بڑھےگی اور دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے میں بھی کوئی مدد نہیں ملے گی۔

ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان بہرام قاسمی نے ایک بیان میں حکومت شام کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے ممکنہ استعمال کے بہانے شام پر حملہ کرنے سے متعلق امریکی حکام کے دھمکی آمیز موقف پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ شام پر امریکہ کی ممکنہ جارحیت کے خطرناک نتائج پر بھرپور توجہ دے کہ جن سے علاقے کی صورت حال مزید ابتر اور خطرناک بن سکتی ہے۔بہرام قاسمی نے تاکید کے ساتھ کہا کہ شام کی حکومت گذشتہ چھے برسوں سے پوری توانائی کے ساتھ دہشت گردوں کے خلاف برسرپیکار ہے اس لئے بے بنیاد بہانوں سے شام پر حملے کی بات کرنے سے صرف دہشت گرد گروہوں کو تقویت ملے گی اور ان کے خلاف مہم متاثر ہو گی۔انھوں نے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بہانے سات اپریل کو امریکہ کی جانب سے شام کی الشعیرات ایربیس پر میزائل حملے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ شام پر امریکہ کی اس جارحیت کے بعد ایران، روس اور شام نے امریکی دعوے کا جائزہ لینے کے لئے بین الاقوامی تحقیقاتی ٹیم روانہ کئے جانے کا مطالبہ کیا مگر حقیقت برملا ہونے کے اندیشے سے امریکہ اور اس کے اتحادیوں نے تحقیقاتی ٹیم کو جانے ہی نہیں دیا۔ایران کی قومی سلامتی کی اعلی کونسل کے سیکریٹری علی شمخانی نے بھی شام کے خلاف امریکہ کی مہم جوئی اور غیر منطقی رویے کو آگ سے کھیلنے کے مترادف قرار دیا ہے۔انھوں نے بدھ کے روز ایک بیان میں شام پر امریکی حملے کی دھمکیوں کے بارے میں کہا کہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں شام کے خلاف ایک بار پھر کئے جانے والے دعوے، شامی فوج کی پیش قدمی و کامیابی اور دہشت گردوں کی مسلسل شکست کی پردہ پوشی کے لئے امریکہ کی جاری حکمت عملی کا حصہ ہیں - علی شمخانی نے شام کے خلاف امریکہ کی جانب سے کئے جانے والے دعوے کی حقیقت میں کیمیائی ہتھیاروں پر پابندی کی تنظیم کے شامل ہونے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ اگر صحیح دعوی کر رہا ہے تو وہ اس تنظیم کے معائنہ کاروں کو ثبوت پیش کرے تاکہ حکومت شام کے تعاون سے اس کا جائزہ لیا جا سکے۔واضح رہے کہ چار اپریل کو شام کے صوبے ادلب میں خان شیخون کے علاقے پر کیمیائی ہتھیاروں سے مشکوک حملہ ہوا تھا جس میں بڑی تعداد میں لوگ مارے گئے تھے اور امریکہ نے اس حملے کا ذمہ دار حکومت شام کو قرار دیتے ہوئے سات اپریل کو شام کے صوبے حمص میں داعش اور جبہت النصرہ دہشت گرد گروہوں کے خلاف مہم کے اہم ترین مرکز کی حیثیت سے الشعیرات ایربیس پر کروز میزائلوں سے حملہ کر دیا تھا۔

ٹیگس