مشرق وسطی، جزیرہ نمائے کوریا اور ایشیا میں امن و استحکام کی برقراری پر تاکید
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا ہے کہ تہران مشرق وسطی، جزیرہ نمائےکوریا اور ایشیا میں امن و استحکام کی برقراری کا خواہاں ہے
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر حجت الاسلام ڈاکٹر حسن روحانی نے کابینہ کے اجلاس میں کہا کہ آج کی دنیا پر حکمفرما تعلقات میں دھونس و دھمکی کی زبان اور زور زبردستی کے عنصر کا خاتمہ ہوجانا چاہئے- انہوں نے کہا کہ جن ملکوں کے پاس ایٹمی ہتھیار ہیں ان کی جانب سے دی جانیوالی دھمکیاں پوری دنیا کے لئے خطرناک ہیں- صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا کہ مشکلات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرنا چاہئے- انہوں نے آج کی دنیا میں نسل کشی کے اقدامات کو غیر قابل قبول بتایا اور کہا کہ میانمار کے عوام اور دنیا کے دیگر مسلمانوں کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے اور ایران ایک مسلمان اور انقلابی ملک کی حیثیت سے دنیا بھر کے مظلوموں کے سلسلے میں خواہ وہ غیر مسلم ہی کیوں نہ ہوں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرے گا - صدر مملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے عالم اسلام میں پائی جانے والی مشکلات کا ذکراور مذاکرات کے ذریعے انہیں حل کرنے کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے کہا کہ آج یمن کو اپنی مشکلات کے حل کے لئے اتحاد کی ضرورت ہے- انہوں نے کہا کہ یمنی گروہوں کے درمیان جدائی اور اختلاف اور یمن پر بمباری صحیح نہیں ہے - انہوں نے کہا کہ عراق، شام، لبنان اور فلسطین میں جب شیعہ و سنی متحد ہوجاتے ہیں تو وہ دشمنوں پر غلبہ حاصل کرلیتے ہیں - صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے علاقے اورعالم اسلام میں امن و استحکام کی برقراری پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے جنوبی ہمسایہ ملکوں کو مغرب سے مسلسل ہتھیارنہیں خریدنا چاہئے اورانہیں علاقے میں ہتھیاروں کی دوڑ شروع نہیں کرنی چاہئے جبکہ سب کو یہ معلوم ہے کہ یہ ہتھیار اصلی دشمن یعنی صیہونی حکومت کے خلاف جنگ میں استعمال بھی نہیں ہوسکیں گے -