عوام کے مطالبات پر توجہ دینے کی ضرورت پر صدر مملکت کی تاکید
ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ ایرانی عوام کو معاشی مسائل، مالی بدعنوانی اور بعض اداروں کی کارکردگی میں عدم شفافیت پر اعتراض ہے اور وہ کھلے ماحول کے خواہاں ہیں۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اپنے ٹوئٹر پر ایرانی عوام کے احتجاجی اجتماعات کے بارے میں لکھا ہے کہ سڑکوں پر نکلنے والے عوام کے مطالبات پر توجہ دیئے جانے کی ضرورت ہے۔دوسری جانب ایران کی پارلیمنٹ کے قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیشن کے ترجمان حسین نقوی حسینی نے کہا ہے کہ ایران کے تینوں ذمہ دار ادارے ، مجریہ مقننہ اور عدلیہ، عوام کے مسائل و مشکلات کو حل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔انھوں نے مجلس شورائے اسلامی کے قومی سلامتی کمیشن کے ہنگامی اجلاس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ایرانی عوام، درپیش مسائل سے کہیں زیادہ آگاہ و ہوشیار ہیں۔نقوی حسینی نے کہا کہ احتجاج کا سلسلہ اقتصادی مسائل کے سلسلے میں ایرانی عوام کے مطالبات سے شروع ہوا تاہم موقع پرست عناصر اور ایرانی قوم کے دشمنوں منجملہ امریکہ، اسرائیل اور بعض علاقائی عناصر نے عوامی مطالبات کو لے کر ہونے والے اجتماعات کو ہنگاموں اور شرپسندی میں تبدیل کر دیا جس کے نتیجے میں پبلیک مقامات ، لوگوں کی املاک اور شہری وسائل و ذرائع کو نقصان پہنچا۔ادھر تقریب مذاہب اسلامی عالمی فورم کے سیکریٹری جنرل آیت اللہ محسن اراکی نے پیر کی رات شہر قم میں میں منعقدہ ایک کانفرنس میں شہدا کے اہل خانہ اور جان نثاروں اور فداکاروں کی قدردانی کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی صدر اور ان کے ساتھیوں کے لئے ایرانی قوم کا پیغام یہ ہے کہ وہ اپنے حسینی تشخص سے کبھی دستبردار نہیں ہو گی۔انھوں نے کہا کہ شیعہ پہچان ہی حسینی تشخص ہے اور ایرانی قوم اپنے اسی مستحکم تشخص کے بھروسے سرکشی اور سرکش عناصر کے مقابلے میں کبھی نہیں جھکے گی۔واضح رہے کہ گذشتہ ہفتے جمعرات کے روز سے ایران کے بعض شہروں میں کچھ لوگوں کی جانب سے اجتماعات کر کے مالی اداروں میں اپنے سرمائے کی صورت حال واضح نہ ہونے، مہنگائی اور حکومت کی کمزور نگرانی کے خلاف احتجاج کیا گیا ہے جبکہ بعض موقع پرست عناصر نے اس احتجاج و اجتماعات کو بلوؤں اور ہنگاموں میں تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے۔امریکی و صیہونی حکام اور اغیار کے ذرائع ابلاغ کی جانب سے بھی عوامی اجتماعات سے غلط فائدہ اٹھاتے ہوئے ان اجتماعات و احتجاج کو ہنگاموں اور فتنہ و بحران کی سمت موڑنے کی کوشش کی گئی ہے۔