Apr ۰۳, ۲۰۱۸ ۲۱:۰۳ Asia/Tehran
  • اغیار کی فوجیں شام سے نکل جائیں، ایرانی صدر حسن روحانی

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا ہے کہ شامی حکومت کی اجازت کے بغیر شام میں اغیار کی فوجی موجودگی غیرقانونی ہے اور یہ سلسلہ ختم ہونا چاہئے۔

صدرمملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے ایران، روس اور ترکی کے سہ فریقی سربراہی اجلاس میں شرکت کے لئے انقرہ روانہ ہونے سے قبل تہران کے مہرآباد ہوائی اڈے پر نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شام کی مشکلات اور مسائل بدستور باقی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں قومی اور نسلی اختلافات کو ہوا دئے جانے کے ساتھ ساتھ غیرملکی فوجی مداخلت بھی جاری ہے اور بعض ممالک دہشت گرد گروہوں کی تقویت میں لگے ہوئے ہیں۔
صدرڈاکٹرحسن روحانی نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ امریکی فوجی شام کے بعض مشرقی علاقوں میں شامی فوج کو تعینات نہیں ہونے دے رہے ہیں اور حتی شام کو ٹکڑے کرنے کی کوشش میں ہیں کہا کہ غیرملکی فوجوں کو شام کے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا کوئی حق نہیں ہے کیونکہ شام کی قسمت کا فیصلہ کرنے کا حق صرف شامی عوام کو ہے۔
انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو چاہئے کہ وہ شامی عوام کی خواہشات کا احترام اور ان خواہشات کی تقویت کرے۔
صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے شام میں صیہونی حکومت کی بھی مداخلت کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ شام میں اسرائیل کی مداخلت بدستور جاری ہے اور صیہونی فوج شام کے مختلف علاقوں میں بمباری کرنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردوں کی مدد کررہی ہے۔
انہوں نے شام کے بحران کے بارے میں آستانہ اور سوچی کے مذاکراتی عمل کا ذکرکرتے ہوئے کہاکہ شام کا بحران فوجی طریقے سے حل نہیں ہوسکتا بلکہ اسے صرف سیاسی طریقے سے ہی حل کیا جاسکتا ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے شام میں دہشت گردوں کے خلاف جنگ جاری رہنے کی ضرورت پر زوردیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ داعش کی کمر توڑ دی گئی ہے لیکن دیگر دہشت گرد گروہ بدستور سرگرم ہیں اس لئے دہشت گردوں کے خلاف جنگ جاری رہنی چاہئے۔
انہوں نے شام میں انسان دوستانہ امداد کی فراہمی کی راہ میں حائل رکاوٹوں اور مشکلات کا ذکرکرتے ہوئے کہا کہ سب کو چاہئے کہ شام میں انسان دوستانہ امداد کی راہ میں حائل مشکلات کو دور کریں اور انسان دوستانہ امداد سب کو پہنچنی چاہئے۔

ٹیگس