یورپ سے میزائلی توانائی پر کوئی بات نہیں ہورہی ہے، ایران
اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیرخارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ یورپی ملکوں کے ساتھ مذاکرات میں ایران کی میزائلی توانائی اور علاقے میں ایران کے اثر و رسوخ کا معاملہ کسی بھی صورت میں زیرغور نہیں ہے۔
وزیرخارجہ ڈاکٹر محمد جواد ظریف نے ایران کی تسنیم نیوز ایجنسی سےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یورپ کے ساتھ ایران کی میزائلی توانائی یا علاقے میں ایران کے کردار کے بارے میں مذاکرات کی خبریں بے بنیاد ہیں اور یورپی یونین نے بھی اس کی تردید کی ہے۔
وزیرخارجہ ڈاکٹر جواد ظریف نے کہا کہ در اصل اس طرح کی خبریں نشر کرنا صیہونی حکومت کی نفسیاتی جنگ کا حصہ ہے اور وہ ایسی جھوٹی خبریں دوسروں کو منتقل کرنا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے بارہا کہا ہے کہ وہ صرف ایٹمی معاہدے کے بارے میں ہی بات کرے گا اور ایٹمی معاہدے سے ہٹ کر کوئی بات نہیں ہوگی۔
انہوں نے یورپی یونین روس اور چین کی جانب سے ایران کو پیش کی گئیں تجاویز کا ذکرکرتے ہوئے کہاکہ اسلامی جمہوریہ ایران ان تجاویز کا جائزہ لے رہا ہے اور ایٹمی معاہدے میں باقی رہنے یا نہ رہنے کے سلسلے میں کوئی فیصلہ کرے گا۔
یاد رہے کہ آٹھ مئی امریکی صدر ٹرمپ نے جامع ایٹمی معاہدے سے نکلنے کا اعلان کردیا تھا لیکن معاہدے کے دیگر فریقوں برطانیہ، جرمنی، فرانس، روس، چین اوریورپی یونین نے اس معاہدے کو باقی رکھنے کا اعلان کیا ہے۔