ایرانی میزائل ایٹمی وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت نہیں رکھتے، ایران
ایران کے وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے کہا ہے کہ تہران ایٹمی ہتھیاروں کے درپے نہیں ہے اور ایرانی میزائل ایٹمی وار ہیڈز لے جانے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔
ڈاکٹر ظریف نے فرانسیسی اخبار لے پوائنٹ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ قرارداد بائیس اکتیس میں ایران سے ایٹمی وارہیڈز لے جانے کی صلاحیت کے حامل میزائل نہ بنانے کو کہا گیا ہے جبکہ ایران کا ایٹمی پروگرام پرامن ہے اور فوجی مقاصد کا حامل نہیں ہے۔
انھوں نے میزائل پروگرام کے بارے میں مغربی دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مغربی ایشیا کے علاقے میں ایران کا فوجی بجٹ دیگر ملکوں کے مقابلے میں کہیں کم ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ فرانس ہر سال سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو اربوں ڈالر کے ہتھیار فروخت کرتا ہے تو کیا وہ ایران کو وہ پیشرفتہ طیارے فروخت کر سکتا ہے جو وہ ان دونوں ملکوں کو فروخت کرتا ہے تاکہ ایران اپنا دفاع کر سکے؟۔
محمد جواد ظریف نے کہا کہ ایران کسی بھی ملک سے جنگ کے حق میں نہیں اور وہ خلیج فارس کے تمام ملکوں کے ساتھ تعاون کا خواہاں رہا ہے جبکہ سعودی عرب علاقے میں ایران سے الجھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انھوں نے سعودی عرب کی پالیسیوں کو نادرست قرار دیا اور کہا کہ وہ لبنان، شام، عراق، یمن، افغانستان اور قطر میں بدستور غلطیوں کی تکرار کر رہا ہے۔