اسرائیل کے مقابلے میں سلامتی قونصل کی 365 قراردادیں ناکام
Oct ۲۹, ۲۰۱۹ ۱۶:۴۴ Asia/Tehran
اقوام متحدہ میں ایرن کے نمائندے نے عالمی برادری کو غاصب صیہونی حکومت کی توسیع پسندی کے مقابلے میں ناکام قرار دیا ہے۔
اقوام متحدہ میں اسلامی جمہوریہ ایران کے سفیر اور نمائندے اسحاق آل حبیب نے مسئلہ فلسطین اور مشرق وسطی میں امن و استحکام کے موضوع پر سلامتی کونسل کے اجلاس میں، ناوابستہ تحریک اور اسلامی تعاون تنظیم کے نمائندے کی حیثیت سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ سلامتی کونسل نے مجموعی طور پر دو ہزار پانچ سو قرار دادیں پاس کی ہیں جن میں سے تین سو پینسٹھ قراردادیں، پوری طرح یا جزوی طور پر مسئلہ فلسطین سے تعلق رکھتی ہیں، لیکن ان میں سے کسی پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔
اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے کہا کہ صیہونی حکومت بعض مغربی ملکوں کی بھر پور حمایت سے وحشیانہ ترین پالیسیوں پر عمل کر رہی ہے۔
اسحاق آل حبیب نے کہا کہ اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینیوں کے بے رحمانہ قتل عام کا سلسلہ جاری رکھا ہے۔ انھوں نے کہا کہ صحت کی عالمی تنظیم کی رپورٹ کے مطابق صرف دو ہزار اٹھارہ میں صیہونی فوجیوں نے دو سو ننانوے بے گناہ فلسطینیوں کو قتل اور اکتیس ہزار سے زائد کو زخمی کیا۔ اسحاق آل حبیب نے کہا کہ یہ بے گناہ فلسطینی غزہ میں فلسطینیوں کے حق واپسی مارچ پر صیہونی فوجیوں کی وحشیانہ فائرنگ میں شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔انھوں نے صیہونی حکومت کے انواع و اقسام کے عام تباہی پھیلانے والے اسلحے کے پروگرام میں توسیع کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صیہونی حکومت نے عام تباہی پھیلانے والے اسلحے کے کنٹرول اور ان پر پابندی سے متعلق بین الاقوامی معاہدوں کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ہے اور کمال بے شرمی کے ساتھ ، خطے کے ایک ملک کو ایٹمی اسلحہ استعمال کرکے نابود کرنے کی دھمکی دیتی ہے۔اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر اسحاق آل حبیب نے، پڑوسیوں پر صیہونی حکومت کے حملوں اور فلسطین، لبنان اور شام کے علاقوں پر اس کا ناجائز قبضہ جاری رہنے کو اقوام متحدہ کے منشور اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔انھوں نے کہا کہ غاصب صیہونی حکومت نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی صیہونی کالونیوں کی تعمیر کے ذریعے اپنے توسیع پسندانہ پروگرام پر عمل کو بھی جاری رکھا ہے۔ اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر نے کہا کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو صیہونی حکومت کے ان تمام خطرناک اور غیر قانونی اقدامات کا نوٹس لینا چاہئے اور اس کے جرائم کو روکنے کے لئے اپنے فرائض پر عمل کرنا چاہئے۔اقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب بشار جعفری نے بھی سلامتی کونسل کے اجلاس سے خطاب میں کہا کہ مقبوضہ جولان شام کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس کو واپس لینا دمشق کی ترجیحی پالیسیوں میں شامل ہے۔ انھوں نے کہا کہ فلسطینی سرزمینوں کے ساتھ ہی شام کے علاقے جولان اور جنوبی لبنان کے بعض علاقوں پر صیہونی حکومت کا قبضہ جاری رہنا، اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کی ناکامی کا ثبوت ہے۔ اقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب نے کہا کہ غاصب صیہونی حکومت، مقبوضہ جولان کی تاریخ کو مسخ کرنے، اس علاقے کی دولت و ثروت کی لوٹ مار اور غیر قانونی صیہونی کالونیاں بناکے، وہاں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے اور شامی تشخص کو ختم کرنے کی سازش پر عمل کر رہی ہے۔
اقوام متحدہ میں شام کے مستقل مندوب بشار جعفری نے کہا کہ فلسطینی عوام کے حقوق اور ایسی فلسطینی ریاست کے قیام کی، جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہو، اور اسی طرح تمام جلاوطن فلسطینیوں کی واپسی کی حمایت، دمشق کی مستقل پالیسی ہے۔