Dec ۰۲, ۲۰۲۰ ۱۱:۰۳ Asia/Tehran
  • ایران قومی مفادات کے پیش نظر جوہری پروگرام کے بارے میں فیصلہ کرے گا

اقوام متحدہ میں ایرانی دفتر کے ترجمان نے اس جانب اشارہ کرتے ہوئے کہ تہران اپنے قومی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے جوہری پروگرام کے بارے میں فیصلہ کرے گا کہا کہ جوہری معاہدے کے اپنے وعدوں میں کمی لانے کا سلسلہ اس وقت تک جاری رہے گا کہ جب تک جوہری معاہدے کے دیگر فریق اپنے وعدوں پر عمل در آمد نہیں کرتے۔

فارس خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ میں ایرانی دفتر کے ترجمان علی رضا میریوسفی نے نیویارک میں امریکی جریدے نیوز ویک کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ ہم دہشتگرد عناصر سے ایٹمی سائنسداں محسن فخری‌ زاده کا انتقام مناسب وقت اور مقام پر لیں گے۔

علی رضا میریوسفی نے جوہری پروگرام کے بارے میں  اس بات پر تاکید کرتے ہوئے کہ ایران اپنے قومی مفادات کو مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرے گا کہا کہ جوہری معاہدے سے امریکہ کے یکطرفہ طور پر نکلنے اور دیگر فریقوں کی جانب سے وعدہ خلافی یا پھر اپنے وعدوں پرعمل در آمد نہ کرنے تک ایران کے اقدامات کا سلسلہ جاری رہے گا۔

واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ مجلس شورائے اسلامی کے اراکین نے منگل کے روز "پابندیوں کے خاتمے اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے اسٹریٹجک اقدام" کے عنوان سے ایک بل کی منظوری دی ۔ پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے اس بل کی منظوری پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ کئی برس سے ایران، ایٹمی معاہدے کی بنیاد پر یکطرفہ طور پر اپنے وعدوں پر عمل کر رہا ہے لیکن مغربی فریق نے اپنے کسی بھی وعدے کو پورا نہیں کیا ہے۔

انھوں نے اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایران اپنے وعدوں کو پورا کرتا رہا لیکن مغرب کا کوئی بھی وعدہ عملی جامہ نہیں پہن سکا، کہا کہ مجلس شورائے اسلامی نے یکطرفہ راستے پر چلنے کے ہر فیصلے کو ختم کر دیا ہے البتہ اس نے مغرب  کے حکام کو ایٹمی معاہدے کے تحت اپنے وعدوں کو پورا کرنے کے لیے ایک موقع بھی فراہم کیا ہے۔

ٹیگس