Nov ۱۳, ۲۰۲۱ ۰۷:۵۵ Asia/Tehran
  • اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر کے دعوے پر ایران کا رد عمل

اسلامی جمہوریہ ایران کی عدلیہ کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے آتنا دائمی نامی خاتون قیدی کے بارے میں اقوام متحدہ کی خصوصی نامہ نگار کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے انہیں موثق ذرائع سے فائدہ اٹھانے کا مشورہ دیا ہے۔

انسانی حقوق کمیٹی نے انسانی حقوق کے تعلق سے اقوام متحدہ کی خصوصی رپورٹر میری لالور کے ٹویٹ کے جواب میں کہا ہے کہ وہ آتنا دائمی کے اپنے گھر والوں سے ملاقات سے محروم ہونے کے بارے میں اپنے دعووں کے لئے موثق ذرائع پر بھروسہ کریں۔

ایرانی عدلیہ کی انسانی حقوق کی کمیٹی نے کہا ہے کہ گذشتہ 7 مہینوں کے دوران آتنا دائمی نے 34 بار اپنے گھر والوں اور وکیل سے ملاقات کی ہے اور ان کے لئے مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت اپنے گھروالوں سے رابطہ کرنے میں کسی طرح کی رکاوٹ نہیں ہے۔

میری لالور نے ٹویٹ میں اظہار تشویش کرتے ہوئے دعوا کیا تھا کہ آتنا دائمی کو دو مہینے سے زیادہ وقت سے اپنے گھر والوں سے رابطہ کرنے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔ ساتھہی انہوں نےایرانی عہدیداروں سے مطالبہ کیا تھا کہ آتنا کو فورا ٹیلیفون سے رابطہ کرنے کی اجازت دی جائے۔

اقوام متحدہ کی خصوصی نامہ نگار نے ایسی حالت میں یہ بے بنیاد دعوی کیا ہے کہ ایران میں مقررہ قواعد و ضوابط کے تحت سبھی قیدیوں کو اپنے گھر والوں اور وکیل سے ملاقات اور رابطہ کرنے کی اجازت ہے۔

 

ٹیگس