شام میں تین سو مسلح دہشت گردوں نے ہاتھ ڈال دیئے ہیں
-
شام میں تین سو مسلح دہشت گردوں نے ہاتھ ڈال دیئے ہیں
شام میں مزید تین سو مسلح دہشت گردوں نے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔ اس درمیان شام کی حکومت نے کہا ہے کہ دہشت گردوں کے خلاف فوج اور عوامی رضاکارفورس کی جنگ جاری رہے گی
تسنیم خبر رساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق شام کے مختلف علاقوں میں شامی فوج کی پیش قدمی جاری ہے اور اس درمیان تین سو مسلح دہشت گردوں نے فوج کے سامنے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق شامی فضائیہ کے ایک اعلی افسر نے، جو تین سال پہلے فضائیہ سے الگ ہو کر دہشت گرد گروہ جیش الاسلام سے مل گیا تھا، دہشت گردوں کے بے شمار جرائم اور شام میں جنگ سے ان کے اہداف سے آگاہی کے بعد اپنے آپ کو اور اپنے ماتحت تین سو افراد کو شامی فوج کے حوالے کردیا۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق اکیس مسلح افراد پر مشتمل ایک اور گروہ نے جمعرات کے روز الضمیر علاقے میں خود کو فوج کے حوالے کر دیا ہے۔
دوسری جانب شام کے وزیر اوقاف نے دہشت گردوں کے خلاف فوج اور عوامی رضاکاروں کی جد و جہد جاری رہنے پر تاکید کی ہے۔ شام کے وزیر اوقاف عبدالستار السید نے کہا کہ شام کے مختلف علاقوں، خاص طور سے مذہبی اور عوامی مقامات پر دہشت گردوں کے بار بار کے حملے دہشت گرد گروہوں کے مقابل فوج کی عوامی حمایت میں اضافے کا سبب بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شامی فوج نے شامی عوام کی حمایت سے دہشت گردوں سے مقابلے میں بہت سی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
ادھر شام کے جنوب میں واقع علاقے درعا البلد کے اطراف میں شامی فوج کی ایک اہم کارروائی میں دہشت گرد گروہ جبہۃ النصرہ کے متعدد دہشت گرد ہلاک ہوگئے ہیں۔ شامی فوج نے قنیطرہ کے اطراف میں جبہۃ النصرہ کے دہشت گردوں کی آمد و رفت کے راستے کو بھی مسدود کر دیا ہے۔
شامی فوج نے حمیدیہ اور الحریہ کے درمیان فوج کی سپلائی لائن کو بھی اپنے کنٹرول میں لے لیا ہے۔ شامی فوج نے لاذقیہ کے مضافات میں بھی دہشت گردوں کے خلاف اپنی پیشقدمی جاری رکھتے ہوئے اس کے پاس کے کئی گاؤں اور دیہاتوں کو آزاد کرالیا ہے -