Feb ۲۳, ۲۰۱۶ ۰۷:۳۴ Asia/Tehran
  • بان کی مون نے متحارب فریقوں سے کہا ہے کہ وہ اس سمجھوتے کی پابندی کریں-
    بان کی مون نے متحارب فریقوں سے کہا ہے کہ وہ اس سمجھوتے کی پابندی کریں-

امریکہ اور روس کے درمیان ستائیس فروری سے شام میں جنگ بندی پر اتفاق ہوگیا۔

موصولہ خبروں کے مطابق تمام متحارب شامی گروپس چھبیس فروری کی دوپہر سے جنگ بندی کے پابند ہوں گے۔ جنگ بندی کا اطلاق شدت پسند گروپ داعش اور القاعدہ سے وابستہ تنظیم النصرہ فرنٹ پر نہیں ہو گا۔ بان کی مون نے امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف کے درمیان ہونے والے اتفاق رائے کو خوش آئند قرار دیا ہے اور متحارب فریقوں سے کہا ہے کہ وہ اس سمجھوتے کی پابندی کریں-

بان کی مون کے نمائندے اسٹیفن دوجاریک نے بھی کہا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے جنگ کے دونوں فریق سے اس سمجھوتے پر عملدر آمد کا مطالبہ کیا ہے- دویاریچ نے شام میں لڑائی روکے جانے کے تعلق سے طے پانے والے سمجھوتے کو دائمی جنگ بندی کے لئے پہلا قدم قرار دیا-

روسی صدر ولادیمیر پوتین نے بھی کہا ہے کہ روس اور امریکہ کے درمیان شام کے بارے میں طے پانے والا سمجھوتہ، دہشت گردی کے خلاف اقدام کے لئے ایک آئیڈیل قرار پاسکتا ہے- پوتین نے کہا کہ شام میں جنگ بندی، خونریزی کی روک تھام کے لئے اٹھایا جانے والا ایک حقیقی قدم ہے- شام کے امور میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل اسٹیفن دی میسٹورا بھی کہا ہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان اس اتفاق رائے سے مستقبل قریب میں سیاسی عمل کے آغاز کا راستہ ہموار ہوگا-

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے بھی کہا کہ شام میں جنگ بندی کی صورت میں تشدد میں کمی آئے گی اور انسانی امداد کی ترسیل میں مدد ملے گی- روسی وزارت خارجہ نے بھی کہا ہے کہ جنگ بندی کا اطلاق ان گروہوں پر نہیں ہوگا جنہیں سلامتی کونسل دہشت گرد قرار دے چکی ہے۔ واضح رہے کہ شام میں مارچ دوہزار گیارہ سے خونریز جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے جن میں اب تک چار لاکھ ستر ہزار افراد جاں بحق اور انیس لاکھ افراد زخمی ہوئے ہیں-

ٹیگس