یمن میں امریکی فوجیوں کے داخلے پر انصار اللہ کا ردعمل
-
یمن کی عوامی انقلابی تحریک انصار اللہ کی سیاسی کونسل کے سربراہ، صالح الصماد
یمن کی عوامی انقلابی تحریک انصار اللہ نے یمن میں امریکی فوجیوں کے داخلے کی شدید مذمت کی ہے۔
العالم نیوز چینل کے مطابق یمن کی عوامی انقلابی تحریک انصار اللہ کی سیاسی کونسل کے سربراہ صالح الصماد نے امریکی فوجیوں کے ساتھ طیارہ بردار امریکی بحری بیڑے کے خلیج عدن میں داخل ہونے پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے یمن میں غاصب امریکی فوجیوں کا مقابلہ کرنے کے لئے آمادگی کی ضرورت پر تاکید کی۔ انھوں نے یمن میں امریکی فوجیوں کے غاصبانہ قبضے کے بھیانک نتائج پر سخت خبردار کرتے ہوئے کہا کہ یمن کی باگ ڈور یمنی عوام کے ہاتھ میں ہے اور انھیں چاہئے کہ اس بات کی ہرگز اجازت نہ دیں کہ امریکی فوجی باگ ڈور اپنے ہاتھ میں لے لیں اور پھر وہ یمنی عوام کی سرکوبی کریں۔
یمن کی عوامی انقلابی تحریک انصار اللہ کے ترجمان محمد عبد السلام نے بھی اعلان کیا ہے کہ اغیار، دہشت گرد گروہ القاعدہ کے خلاف مہم کے بہانے جنوبی یمن پر قبضہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ واضح رہے کہ چھے کشتیوں کے ساتھ امریکی بحری بیڑے کے، خلیج عدن میں داخل ہونے کے ساتھ ہی ہفتے کے روز دو سو سے زائد امریکی فوجی، جنگی وسائل کے ساتھ جنوبی یمن کے شہر المکلا میں داخل ہوئے ہیں۔
یہ ایسی حالت میں ہے کہ گذشتہ جمعے کو امریکی فوج کے پندرہ اپاچی اور پانچ بلیک ہاؤک ہیلی کاپٹر جنوبی یمن کے العند مرکز پہنچے تھے جس کے بعد اس فوجی مرکز سے بھاری مقدار میں فوجی ساز و سامان جنوبی یمن کے صوبے الضالع منتقل کیا گیا۔ گذشتہ بدھ کو تقریبا سو امریکی فوجیوں کا حامل ایک فوجی طیارہ بھی العند ایئرپورٹ پر اترا تھا جس کے بعد فوجی وسائل کے حامل کئی مال بردار طیارے بھی اس ایئرپورٹ پر اترے تھے۔