فلوجہ کی آزادی کا آپریشن
شہر فلوجہ کو داعش سے آزاد کرانے کے آپریشن میں عراقی افواج نے شہر میں داخل ہونے کے مرحلے کا آغاز کر دیا ہے
ہمارے نمائندے نے عراق کے فوجی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ شہر فلوجہ کو داعش سے پوری طرح آزاد کرانے کے آپریشن میں، شہر میں عراقی افواج کے داخل ہونے کا مرحلہ شروع ہوگیا ہے ۔ بتایا گیا ہے کہ اس مرحلے میں کئی فوجی دستے ، شہر فلوجہ میں داخل ہوگئے ہیں ۔
فلوجہ کو آزاد کرانے کے آپریشن کی مشترکہ کمان کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ داعش کے افراد نے شہر فلوجہ سے نکل بھاگنے کے راستے تلاش کرنا شروع کر دیئے ہیں ۔ ایک اور رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ اتوار کو بھی شہر فلوجہ کے اطرف میں متعدد علاقوں کو داعش کے وجود سے پاک کر دیا گیا ۔
اس رپورٹ کے مطابق فلوجہ کے شمال میں عراقی افواج کی پیشقدمی کو داعش نے روکنے کی کوشش کی جس میں اس کو ناکامی ہوئی ۔ اس سیکٹر پر ہونے والی لڑائی میں داعش کے کم سے کم بیس دہشت گرد ہلاک اور اس کی پانچ گاڑیاں تباہ کر دی گئیں ۔ عراقی افواج نے داعش کے فرار کے بعد البکارہ نامی علاقے کو اپنے کنٹرول میں لے لیا۔
عراق کی فوج اورعوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے اسی طرح فلوجہ کے شمال مغرب میں داعش کے کم سے کم نو دہشت گردوں کو ہلاک، پانچ کو زخمی اور اس گروہ کی چار گاڑیوں کو تباہ کر دیا ۔
فلوجہ کے شمال میں واقع الصقلاویہ نامی علاقے میں بھی فوج اور عوامی رضاکار دستوں کے آپریشن میں متعدد دہشت گردوں کے مارے جانے کی خبر ہے۔
عراق کی مجلس اعلای اسلامی کی سرایا عاشورا نامی عوامی رضاکار فورس نے بھی اتوار کو ایک بیان جاری کرکے اعلان کیا ہے کہ فلوجہ کے شمال مغرب میں داعش کے ایک حملے کو ناکام بنا دیا گیا ہے ۔ اس رپورٹ کے مطابق اس حملے میں داعش کے چون دہشت گرد ہلاک ہوئے ہیں ۔ سرایا عاشورا کی رپورٹ کے مطابق داعش کے جو افراد بچ گئے تھے انھوں نے اپنے اسلحے اور جنگی وسائل چھوڑ کے راہ فرار اختیار کی ۔
اسی طرح شہر ہیت پر بھی داعش کا ایک بڑا حملہ ناکام بنا دیا گیا ہے ۔ عراقی فوج کے مطابق اس حملے میں اپنے ساٹھ سے زائد دہشت گردوں کی ہلاکت کے بعد داعش نے پسپائی اختیار کر لی ہے۔ داعش کے حملے کو پسپا کرنے کی کارروائی میں فوج اور عوامی رضاکار فورس کے دستوں نے مشترکہ طور پر حصہ لیا تھا۔
قابل ذکر ہے کہ صوبہ الانبار کے شہر ہیت کو کچھ عرصہ پہلے ہی داعش کے وجود سے پاک کیا گیا تھا۔