Jan ۱۹, ۲۰۱۷ ۱۷:۲۰ Asia/Tehran
  • پلاسکو تجارتی کمپلیکس میں آتشزدگی کی وجوہات کا پتہ لگانے کا حکم

صدرمملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے وزیرداخلہ کو حکم دیا ہے کہ وہ فوری طور پر تہران کے پلاسکو تجارتی کمپلیکس میں آتشزدگی اور عمارت کی تباہی کی وجوہات کا پتہ لگائیں

جمعرات کو تہران کے مرکزی علاقے میں پلاسکو تجارتی کمپلیکس میں شدید آگ لگ گئی جس کے نتیجے میں پندرہ منزلہ عمارت زمیں بوس ہوگئی - ایران کے محکمہ حادثات کے سربراہ پیر حسین کولیوند نے بتایا کہ اس حادثے میں متعدد افراد جاں بحق اور ستر افراد زخمی ہوئے ہیں تاہم جاں بحق ہونے والوں کے بارے میں مسلسل مختلف  خبریں موصول ہو رہی ہیں - صدرمملکت ڈاکٹر حسن روحانی نے وزیرداخلہ عبدالرضا رحمانی فضلی کو حکم دیا ہے کہ وہ پلاسکو تجارتی کمپلیکس میں آتشزدگی کے حادثے کی وجوہات فورا معلوم کریں اور زخمیوں کا مکمل علاج کرانے کے لئے ہرممکن سہولیات فراہم کی جائیں - انہوں نے اپنے حکم میں کہا ہے کہ جن لوگوں کا مالی نقصان ہوا ہے ان کے نقصانات کی تلافی کے لئے متعلقہ ادارے فوری طور پر اقدامات کریں - وزیرداخلہ رحمانی فضلی اور تہران کے گورنر نے جائے حادثہ کا دورہ کیا - دوسری جانب تہران کے گورنریٹ کے سیکورٹی شعبے کے سربراہ نے کہا ہے کہ پلاسکو تجارتی کمپلیکس میں آگ بجلی کے تاروں میں شارٹ سرکٹ کے باعث لگی- آگ کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ فائربریگیڈ کی دو سو سے زائد گاڑیوں، عملے کے افراد اور امدادی کارکنوں کی کوششوں کے باوجود آگ پر قابو نہیں پایا جاسکا اور چند گھنٹے تک آگ میں جھلسنے کے بعد پوری عمارت زمیں بوس ہوگئی - بتایا جاتا ہے کہ آگ لگنے کے فورا بعد ہی عمارت کو لوگوں سے خالی کرا لیاگیا - اس درمیان تہران کی بلدیہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ جائے حادثہ سے ملبہ ہٹانے کا کام ہنگامی بنیادوں پر جاری ہے - تہران کی بلدیہ کے ترجمان نے بھی آتشزدگی اور عمارت کے گرجانے کی وجوہات کے بارے میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ مذکورہ کمپلیکس کے ذمہ داروں کو بارہا خبردار کیا جاچکا تھا کہ عمارت کافی بوسیدہ ہوچکی ہے اوراس کی تعمیر نو کے لئے اقدامات انجام پانے چاہئیں لیکن ان انتباہات پر توجہ نہیں دی گئی اور یہ حادثہ پیش آگیا - بلدیہ کے ترجمان نے بتایا کہ یہ عمارت انیس سو باسٹھ میں تعمیر ہوئی تھی اور تہران کی ایک قدیمی ترین ملٹی اسٹوری عمارت شمارہوتی تھی- مقامی حکام کا کہنا ہے کہ مذکورہ تجارتی مرکز کے پاس واقع دوغیرملکی سفارتخانوں کو بھی خالی کرا لیا گیا ہے -

ٹیگس