Feb ۰۴, ۲۰۱۷ ۱۴:۳۸ Asia/Tehran
  • عراق: مشرقی صلاح الدین پر داعش کا حملہ ناکام

عراقی فوج نے اہلسنت قبائل کے تعاون سے مشرقی صلاح الدین کی جانب داعش دہشت گردوں کی پیش قدمی کو ناکام بناتے ہوئے درجنوں دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔

 عراقی ذرائع کے مطابق دہشت گرد گروہ مشرقی صلاح الدین کے علاقے مبارک الفرحان پر حملہ کرنا چاہتا تھا تاہم عراق کے اہلسنت قبائل اور فوج کے جوانوں نے ان کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور انہیں علاقے سے پسپا ہونے پر مجبور کر دیا۔
 کہا جا رہا ہے کہ اس دوران داعش کے دہشت گردوں کو ہونے والی لڑائی میں زبردست جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔
دوسری  جانب اطلاعات ہیں کہ صوبہ صلاح الدین کے علاقے جزیرہ صینیہ کی آزادی کے جاری آپریشن کا دوسرا مرحلہ مکمل ہو گیا ہے جس کے دوان درجنوں داعشی دہشت گرد ہلاک ہو گئے اور ان کے ہتھیاروں اور گولہ بارود کو تباہ کر دیا گیا۔
 عراق کی عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے جزیرہ صلاح الدین  اور جنوب مغربی صحرائے نینوا کے درمیان رابطہ شاہراہوں کو سیکورٹی کو یقینی بنانے کے لیے شروع کیا جانے والا آپریشن کامیابی کے ساتھ مکمل کر لیا ہے۔
اس آپریشن کے نتیجے میں صحرائے نینوا، مکحول اور الجویہ کے درمیان مواصلاتی رابطہ منقطع اور الجویجہ کی دا‏عش کے قبضے سے آزادی کا راستہ ہموار ہو گیا ہے۔
اس سے قبل عراق کی عوامی رضاکار فورس کے جوانوں نے جمعے کے روز دس دیہی آبادیوں کو داعش کے قبضے سے آزاد کرا لیا تھا۔
 تازہ ترین خبروں میں کہا گیا ہے کہ عراقی فوج نے  جزیرہ صلاح الدین کے قریب واقع تیل کی تنصیبات کو داعش کے قبضے سے آزاد کرا لیا جسے داعشی دہشت گرد اپنے ایک اہم اڈے کے طور پر استعمال کیا کرتے تھے۔
درایں اثنا حزب اللہ عراق کے ترجمان جعفر الحسینی نے امریکہ کے ناجائز دباؤ کو موصل کی آزادی میں تاخیر کا اصل سبب قرار دیا ہے۔
 انہون نے کہا کہ عراقی فوج اور عوامی رضاکار فورس کے جوان تلعفر کو آزاد کرانے کے لیے داعشی دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ تر کر رہے ہیں۔
انہون نے کہا کہ موصل کو آزاد کرانے کے لیے تمام فوجی اور ٹیکٹکل اقدامات مکمل کرلیے گئے ہیں تاہم آپریشن کے آغاز کا حکم تاحال جاری نہیں کیا گیا ہے۔
 

 

ٹیگس