جارح سعودی عرب کے ہاتھوں یمنی عوام کا جاری قتل عام
یمن کے شمالی صوبے صعدہ کے شہر باقم کے رہائشی علاقے آل عسلان پر سعودی عرب کے جنگی طیاروں کی بمباری میں سات عام شہری شہید ہو گئے جن میں عورتیں اور بچے بھی شامل ہیں۔
العالم کی رپورٹ کے مطابق جمعرات کے روز بھی صوبے صعدہ کے مضافاتی علاقے منبہ کے آل شیخ علاقے پر سعودی فوج کے راکٹ حملے میں تین عام شہری مارے گئے تھے۔
دوسری جانب جنوبی یمن میں عدن کے علاقے البریقہ میں مسلح گروہ اور متحدہ عرب امارات کی فوج کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں تین افراد ہلاک اور کئی دیگر زخمی ہو گئے۔
زیت بندرگاہ پر بھی ہونے والی اسی طرح کی جھڑپوں میں بھی بارہ افراد مارے گئے ہیں۔
شمالی یمن میں سعودی عرب کی ناکامی اس بات کا باعث بنی ہے کہ سعودی عرب نے ابوظبی کے ساتھ یمن کی تقسیم کے اپنے معاہدے کو توڑ دیا اور یمن کے مستعفی صدر کو ایسے یمنی عہدیداروں کو ہٹانے پر مجبور کر دیا کہ جنھیں متحدہ عرب امارات کی حمایت حاصل ہے۔
یمن کے مستعفی صدر منصور ہادی نے متحدہ عرب امارات کے حمایت یافتہ عدن کے گورنر کو برطرف کر دیا ہے۔
منصور ہادی کے حامی ملک کی حیثیت سے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات میں اختلافات شدّت اختیار کر گئے ہیں۔