Nov ۱۲, ۲۰۱۷ ۱۷:۳۳ Asia/Tehran
  • سعد حریری کی سعودی عرب میں جبری حراست

خبررساں ایجنسی رائٹرز نے لکھا ہے کہ لبنان کے وزیراعظم سعد حریری نے ریاض میں سعودی عرب کےولیعہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے بعد استعفے کا متن وصول کیا اور پھر سعودی ٹیلی ویژن چینل پر اس کو پڑھ کرسنادیا۔

خبررساں ایجنسی رائٹرز نے لکھا ہے کہ سعد حریری کے سعودی عرب پہنچنے کے بعد سے ہی صورتحال ان کے لئے مختلف ہوگئی تھی ان کا موبائل فون ان سے لے لیا گیا، ان کے استقبال کے لئے کوئی بھی حکومتی عہدیدار یا شہزادہ ایئر پورٹ نہیں پہنچا اور پھراس کے بعد انہیں استعفا دینا پڑا۔
رائٹرز نے لکھا کہ سعودی عرب اس نتیجے پر پہنچ گیا ہے کہ سعد حریری کو اب وزارت عظمی کے عہدے سے جانا چاہئے کیونکہ وہ حزب اللہ لبنان کے مقابلے پر نہیں آنا چاہتے۔
خبر رساں ایجنسی نے لکھا کہ لبنان کے متعدد ذرائع کا کہنا ہے کہ ریاض کو امید ہے کہ بہاء الحریری، سعد حریری کے جانشین بن سکتے ہیں اور خیال کیا جاتاہے کہ وہ بھی اس وقت سعودی عرب میں موجود ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حریری خاندان کے افراد سے کہا گیا ہے کہ وہ بہاء الحریری کی بیعت کرنے کے لئے سعودی عرب کا سفر کریں لیکن حریری خاندان نے سعودی عرب اس کے اس مطالبے کو ماننے سے انکار کردیا ہے۔
اس درمیان لبنان کے باخبر ذرائع نے لبنانی اخبار الجمہوریہ کو بتایا ہے کہ لبنان کے صدر میشل عون نے سعودی عرب سے کہا ہے کہ وہ ایک ہفتے کے اندر اندر سعد حریری کو رہا کردے اور انہیں واپس لبنان جانے کی اجازت دے۔
لبنان کے صدر نے سعودی عرب کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے سعد حریری کو نہیں رہا نہ کیا تو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس کے خلاف شکایت کی جائے گی۔
لبنانی صدر کا کہنا ہے کہ سعد حریری کو اغوا کر کے سعودی عرب میں حراست میں رکھا گیا ہے۔
دوسری جانب اسرائیلی اخبار ہا آرتض نے لکھا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ سعودی عرب کے قدرتی ذخائر پر مغرب کی لالچ نے مغربی ملکوں کو اندھا بنادیا ہے کہ وہ یہ نہیں دیکھ رہے کہ علاقائی سطح پر سعودی عرب کو بڑے پیمانے پر شکست ہورہی ہے۔
اخبار لکھتاہے کہ سلمان بن عبدالعزیز کے بادشاہ بننے کے کچھ ہی دنوں بعد مارچ دوہزار پندرہ میں یمن کی جنگ شروع ہوئی جو سعودی عرب کی بڑی سیاسی اور فوجی شکست پر منتج ہوئی ہے
اخبار کے مطابق سعودی عرب نے اس جنگ میں مصر سوڈان اور چند دیگر ملکوں کو اپنا اتحادی بنایا لیکن ہر ایک نے اپنی ذمہ داری صرف یمن کے ساحلوں پر گشت کرنے تک ہی محدود رکھی۔
اسرائیلی اخبار لکھتاہے کہ یمن کی جنگ پر سعودی عرب روزانہ دوسو ملین ڈالر خرچ کررہا ہے لیکن ابھی تک اس جنگ کا مقصد واضح نہیں ہوسکا ہے۔
اخبار نے سعد حریری کے استعفے کے بارے میں بھی لکھا کہ اس میں شک نہیں کہ سعودی بادشاہ نے یہ استعفا لبنان میں سیاسی تبدیلی کے لئے لیا ہے۔اخبار لکھتاہے کہ محد بن سلمان کا یہ جوا بھی دردناک شکست سے دوچار ہوگا۔

ٹیگس