استنبول میں او آئی سی کا ہنگامی سربراہی اجلاس
بیت المقدس کے بارے میں امریکی صدر ٹرمپ کے حالیہ فیصلے پر رد عمل ظاہر کرنے اور اس کا جائزہ لینے کے لئے او آئی سی کا ہنگامی سربراہی اجلاس ترکی کے شہر استنبول میں شروع ہوگیا ہے جس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی بھی شریک ہیں۔
او آئی سی کے ہنگامی سربراہی اجلاس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ترکی کے صدر رجب طیب اردوغان نے بیت المقدس کےبارے میں امریکی صدر ٹرمپ کے فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسرائیل ایک غاصب اور دہشت گرد حکومت ہے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کسی بھی ملک کو یہ حق نہیں ہے کہ وہ بیت المقدس میں اپنا سفارتخانہ کھولے۔
ترک صدر نے کہا کہ بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے پر مبنی امریکی صدر ٹرمپ کا فیصلہ تاریخی قانونی اور اخلاقی ہر اعتبار سے غیر معتبر ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ صرف مقبوضہ علاقوں کے فلسطینیوں پر زیادہ سے زیادہ دباؤ ڈالنے کے لئے کیاگیا ہے۔
ترک صدرنے فلسطین کے مسئلے کے منصفانہ حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ انیس سو سینتالیس سے اب تک اسرائیل قدم بہ قدم فلسطینی سرزمینوں پر قبضہ کرتا جارہا ہے جو ایک غیر قانونی عمل ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب تک مسئلہ فلسطین منصفانہ طریقے سے حل نہیں ہوجاتا اس وقت تک دنیا میں حقیقی معنی میں امن و صلح قائم نہیں ہوسکے گی۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے بھی استنبول اجلاس میں شرکت کے لئے روانہ ہونے سے قبل تہران کے مہرآباد ہوائی اڈے پر نامہ نگاروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ بیت المقدس کے بارے میں ٹرمپ کا اعلان عالم اسلام کے خلاف امریکیوں اور صیہونیوں کا ایک ناپاک منصوبہ ہے۔
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ فلسطین عالم اسلام کا سب سے بڑا مسئلہ ہے کہا کہ آج مسلمانوں کے سامنے اتحاد و یگانگت کے سوا اور کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے اور سب کو امریکی صدر کے فیصلے کے خلاف ایک آواز ہو کر احتجاج کرنا چـاہئے۔
اسلامی ملکوں کا سربراہی اجلاس بیت المقدس کے بارے میں ٹرمپ کے خطرناک اور غیر قانونی اعلان کا جائزہ لینے کے لئے ترکی کے شہر استنبول میں جاری ہے۔
اجلاس میں شریک اسلامی ملکوں کے سربراہان امریکا کے اس خطرناک فیصلے کے پہلوؤں کا جائزہ لے رہے ہیں۔
اجلاس میں اسلامی جمہوریہ ایران کے صدرڈاکٹر حسن روحانی بھی بیت المقدس اور اس کے تعلق سے امریکی صدر کے فیصلے کے بارے میں ایران کا موقف بیان کریں گے۔