Apr ۰۹, ۲۰۱۸ ۱۳:۵۹ Asia/Tehran
  • شام میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کےدعوؤں پر شام و روس کا ردعمل

شام اور روس کی وزارت خارجہ نے دمشق حکومت کے خلاف بعض ملکوں کے اس دعوے کو سختی کے ساتھ مسترد کر دیا ہے کہ اس نے غوطہ شرقی کے شہر دوما میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے۔

شام کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ شامی فوج جب بھی دہشت گردوں کے خلاف جنگ میں پیش قدمی کرتی ہے دہشت گردوں کی حمایت کے لئے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا دعوی کر دیا جاتا ہے اور ایسا ہی کچھ غوطہ شرقی کے علاقے دوما میں بھی ہوا ہے۔

شام کی وزارت خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ دوما کے علاقے میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا دعوی ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا اور اس سلسلے میں مصدقہ اطلاعات پہلے سے موجود تھیں چنانچہ شام کی حکومت نے اس سلسلے میں خبردار بھی کیا تھا - شام میں فائر بندی کے نگراں روسی مرکز نے بھی اعلان کیا ہے کہ شام کے دارالحکومت دمشق کے مضافات میں واقع علاقے غوطہ شرقی کے شہر دوما کے قریب کسی بھی طرح کے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال نہیں ہوا ہے۔شام میں فائر بندی کے نگراں روسی مرکز کے سربراہ یوری یوتو شنکو نے کہا ہے کہ  دوما شہر میں کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے بارے میں شامی حکومت کے خلاف مغربی ملکوں کی جانب سے کئے جانے والے دعوے بالکل جھوٹے اور خودساختہ ہیں۔روس کی وزارت خارجہ نے بھی اعلان کیا ہے کہ شامی فوج کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کے دعوے دہشت گردوں کے اقدامات کی پردہ پوشی اور شام کے خلاف فوجی اقدام کا جواز بنانے کے بہانے کے طور پر کئے جا رہے ہیں۔روس کی وزارت خارجہ نے خبردار کیا ہے کہ بے بنیاد اور جھوٹی رپورٹوں کے بہانے شام کے خلاف کسی بھی قسم کے فوجی اقدام کے خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔دہشت گردوں کے قریبی ذرائع نے دعوی کیا ہے کہ شام کی فضائیہ نے ہفتے کی رات دوما پر کیمیائی بمباری کی ہے جس میں 75 افراد مارے گئے ہیں اور درجنوں دیگر متاثر ہوئے ہیں۔دوسری جانب شامی فوج نےغوطہ شرقی میں دوما کے علاقے کو آزاد کرانے کے بعد اس علاقے سے بھاری مقدار میں فوجی سازوسامان برآمد کیا ہے۔یہ ہتھیار دوما میں زمالیک کے علاقے سے برآمد کئے گئے ہیں۔ شامی فوج نے اس علاقے میں میزائل و راکٹ لانچر پیڈ کے علاوہ ایک ایسے بڑے گودام کا بھی پتہ لگایا ہے  جہاں بڑی مقدار میں دوائیں اور طبی آلات موجود تھے۔

ٹیگس