افغانستان میں طالبان کا نیا بنیادی آئینی ڈھانچہ
افغانستان میں طالبان نے نیا بنیادی آئینی ڈھانچہ تشکیل دے دیا ہے۔
پاکستانی میڈیا ذرائع نے طالبان قیادت کے حوالے سے رپورٹ دی ہے کہ طالبان کا تیار کردہ نیا بنیادی آئینی ڈھانچہ چالیس نکات پر مشتمل ہے۔ افغانستان کے نئے بنیادی آئینی ڈھانچے میں کہا گیا ہے کہ پشتو اور فارسی دونوں ہی ملک کی سرکاری زبانیں ہوں گی اور سرکاری مذہب اسلام ہوگا۔
طالبان کے تیار کردہ بنیادی آئین کے نئے ڈھانچے میں کہا گیا ہے کہ افغانستان میں دیگر مذاہب کے پیروکاروں کو اسلامی شریعت کے احکام کے تحت اپنے مذہبی عقائد کی آزادی ہوگی۔
عبوری طالبان حکومت کے تیار کردہ نئے بنیادی آئینی ڈھانچے کے مطابق افغانستان کی خارجہ پالیسی، اسلامی شریعت پر استوار ہوگی اور سبھی پڑوسی ملکوں سے اختلافات پر امن طریقے سے حل کئے جائیں گے۔
افغانستان کے نئے بنیادی آئینی ڈھانچے میں اعلان کیا گیا ہے کہ افغانستان کا کوئی بھی حصہ بیرونی حکومتوں کا تابع نہیں ہوگا۔