پاکستان و افغانستان کے درمیان کشیدگی، ایران سمیت مختلف ملکوں نے کشیدگی کے خاتمے کی اپیل کی
پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی پرایران سمیت کئی اسلامی ممالک نے اہم سفارتی رابطے کئے اور دونوں ممالک سے صورتحال کو قابو میں رکھنے، ممکنہ سفارتی حل تلاش کرنے اور صبر و تحمل سے کام لینے کی درخواست کی ہے۔
سحرنیوز/ایران: پاکستان اور افغانستان کے درمیان جاری کشیدگی پراسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ افغانستان اور پاکستان اپنے اختلافات کو بات چیت اور تعمیری تعاون کے ذریعے حل کریں اورایران دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی راہ ہموار کرنے، باہمی اعتماد کو فروغ دینے اور تعاون کو مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کرنے کو تیار ہے۔
ترکیہ کے وزیر خارجہ ہاکان فیدان، سعودی وزیر خارجہ فیصل بن فرحان السعود اور قطر کے وزیر خارجہ نے پاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار سے الگ الگ ٹیلی فونی گفتگو کرتے ہوئے پاکستان و افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
ان ممالک کے وزرائے خارجہ نے پاکستان و افغانستان سے صبر و تحمل سے کام لینے اور اختلافات کو باہمی گفت و شنید کے ذریعے حل کرنے پر تاکید کی۔
روس نے بھی اسلام آباد اور کابل سے اپیل کی ہے کہ موجودہ اختلافات سفارتکاری کے ذریعے پر امن طور پر حل کریں۔
روس کی قومی سیکورٹی کونسل نے ایک بیان جاری کرکے پاکستان اور افغانستان کی حالیہ کشیدگی کو برطانیہ سامراجی پالیسیوں کا نتیجہ قرار دیا ہے۔
روسی ایوان صدر کے ترجمان دیمتری پیسکوف نے کہا ہے کہ ماسکو پاک افغان کشیدگی پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
انھوں نے دونوں ملکوں سے تحمل سے کام لینے کی اپیل کی ہے اور کہا ہے کہ پاک افغان فوجی تصادم سے اچھے نتائج برآمدنہیں ہوں گے۔
در ایں اثناء پاکستان اورافغانستان کی جانب ایک دوسرے کی چیک پوسٹوں پرقبضہ کرنے اور فوجی اہلکاروں کو ہلاک کرنے کے دعوے بھی کئے جا رہے ہیں۔
ہمیں فالو کریں:
Follow us: Facebook, X, instagram, tiktok whatsapp channel
پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل انٹر سروسز پبلک ریلیشنز لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے آج پریس بریفنگ میں دعوی کہ افغانستان کے ایک سو پندرہ ٹینک، بکتربند گاڑیاں تباہ اور اے پی سیز کی جاچکی ہیں