Sep ۳۰, ۲۰۱۵ ۱۸:۰۲ Asia/Tehran
  • اوباما کو شام کے بارے میں فیصلے کا حق نہیں، شامی وزیر خارجہ
    اوباما کو شام کے بارے میں فیصلے کا حق نہیں، شامی وزیر خارجہ

شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے کہا ہے کہ امریکہ سمیت کسی بھی ملک کو شامی عوام کے مستبقل کے بارے میں کسی بھی طرح کے فیصلہ کوئی حق حاصل حاصل نہیں۔

المیادین ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے ولید المعلم نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ شام کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے بارے میں روس کے موقف پر پورا بھروسہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کی قیادت میں قائم نام نہاد داعش مخالف اتحاد کے عزائم مشکوک ہیں اور ہم اس پر ہرگز بھرسہ نہیں کرسکتے۔

انہوں نے کہا کہ میں واضح کردینا چاہتا ہوں کہ " نہ تو امریکی صدر براک اوبا اور نہ ہی کوئی اور اس بات پر قادر ہے کہ وہ شام کے عوام کے بارے میں کوئی فیصلہ کرسکے۔"

شام کے وزیر خارجہ نے بغداد میں داعش کے خلاف جنگ کے لئے مشترکہ انٹیلی جینس کنٹرول روم کے قیام کی تصدیق کی تاہم کہا کہ اس میں امریکہ شامل نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ داعش کے خلاف جنگ کے حوالے سے امریکہ کی اسٹریٹیجی میں کھلا تضاد باپایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ" امریکہ داعش کو ختم نہیں بلکہ محدود کرنا چاتا ہے۔"

چند روز قبل عراق کی وزارت دفاع نے اعلان کیا تھا کہ عراقی حکومت نے روس، ایران اور شام کے تعاون سے بغداد میں دہشت گرد گروہوں کے خلاف جنگ کی غرض سے خفیہ معلومات کے تبادلے کے لیے مشترکہ مرکز کے قیام پر اتفاق کرلیا ہے تاہم اسلامی جمہوریہ ایران نے ایسے کسی مرکز میں شمولیت کی سختی کے ساتھ تردید کردی تھی۔








ٹیگس