دہشت گرد گروہوں سے مقابلہ جاری رہنے پر تاکید
-
دہشت گرد گروہوں سے مقابلہ جاری رہنے پر تاکید
شام کے وزیر اعظم وائل الحلقی نے دہشت گرد گروہوں سے مقابلہ جاری رہنے پر تاکید کی ہے۔ دوسری جانب ملک کے مختلف علاقوں میں دہشت گردوں کے خلاف فوج کا آپریشن جاری ہے ۔
شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی سانا کی رپورٹ کے مطابق وائل الحلقی نے شام کے وسطی شہر حمص میں ہفتے کے روز ہونے والے دہشت گردانہ بم دھماکے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس دہشت گردانہ حملے سے دہشت گردی کے خلاف شام کی جنگ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ دہشت گردانہ حملوں سے نہ صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ اور قومی آشتی کے عمل میں شامی عوام کے عزم و ارادے میں کوئی خلل پیدا نہیں ہوگا بلکہ یہ حملے شام میں قومی اتحاد کے مستحکم ہونے کا سبب بنیں گے۔ شام کے وزیر اعظم نے دہشت گردی کے حامی ممالک کو اپنے ملک میں ہونے والے وحشیانہ قتل عام کا ذمہ دار قرار دیا اور ان ممالک سے مطالبہ کیا کہ وہ دہشت گردی کی حمایت اور دہشت گرد گروہوں کی مالی مدد کرنا بند کردیں۔
واضح رہے کہ شام کے اسٹریٹیجک شہر حمص میں ہفتے کے روز ہونے والے کار بم دھماکے میں کم سے کم بائیس افراد جاں بحق اور دسیوں دیگر زخمی ہوگئے تھے۔ داعش گروہ نے اس دہشت گردانہ حملے کی ذمہ داری قبول کی ۔
ادھر شام کے شمال مغربی علاقے حلب کے جنوبی مضافات میں شامی فوج کی پیش قدمی بدستور جاری ہے۔العالم ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق شامی فوج نے حلب کے جنوبی مضافات میں واقع علاقے الصعیبیہ پرکنٹرول حاصل کرکے ایک اور کامیابی حاصل کی اور دہشت گرد گروہوں پر کاری ضرب لگائی ہے۔ رپورٹ کے مطابق شامی فوج نے حلب شہر کے مختلف علاقوں میں بھی دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا ہے۔
دریں اثنا شامی فضائیہ نے دمشق کے مضافات اور جنوبی علاقے درعا کے مضافات میں واقع دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور خفیہ اڈوں پر بمباری کی ہے جبکہ دمشق شہر کے مشرق میں، دمشق کے مضافات میں اور درعا کے مضافات میں واقع علاقوں پر فوج نے توپ خانے سے گولہ باری کی ہے۔
شام کے وسط میں واقع شہر حمص کے مضافاتی علاقے مہین کے اطراف کے علاقوں اور مغربی علاقے حماہ کے مضافاتی علاقوں میں بھی شامی فوج نے دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر شدید حملے کئے ہیں۔ شامی فوج نے مغربی شہر لاذقیہ کے شمالی مضافات میں واقع ایک گاؤں میں بھی دہشت گرد عناصر کے ٹھکانوں کو اپنے حملوں کا نشانہ بنایا ہے۔