داعش 2 چینی باشندوں کے قتل میں ملوث
دہشت گرد گروہ داعش نے صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ سے گزشتہ دنوں اغواء کیے گئے 2 چینی باشندوں کو قتل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
داعش نے اپنی نیوز ایجسنی اعماق پر عربی زبان میں جاری کیے گئے بیان میں چینی شہریوں کو قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کی۔
واضح رہے کہ 24 مئی کو کوئٹہ کے علاقے جناح ٹاؤن سے 2 چینی شہریوں کو اغواء کر لیا گیا تھا۔
اغواء ہونے والا چینی جوڑا ایک چینی زبان سکھانے والے ادارے میں استاد تھا، جنہیں تین مسلح افراد نے زبردستی اغوا کر لیا تھا۔
مسلح افراد نے ان ٹیچرز کے ساتھ موجود تیسری چینی خاتون کو بھی اغوا کرنے کی کوشش کی تھی تاہم وہ فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی تھیں جبکہ اغواء کے مقام پر موجود ایک راہ گیر نے جب ان افراد کو بچانے کی کوشش کی تو مسلح افراد نے اسے گولی مار دی تھی۔
ایک سینیئر حکومتی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ مغوی چینی شہریوں کی ہلاکت سے متعلق داعش کے دعوے کی تحقیقات جاری ہیں۔
دوسری جانب چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہوا چون اینگ نے بتایا کہ ہمیں بلوچستان سے اغوا ہونے والے اپنے باشندوں کی ہلاکت کی خبروں پر تشویش ہے اور اس حوالے سے مزید معلومات حاصل کی جا رہی ہیں۔
داعش نے چینی شہریوں کو قتل کرنے کا دعویٰ ایک ایسے وقت میں کیا ہے جب گزشتہ روز پاکستانی فوج نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں ایک آپریشن کے دوران 2 خود کش حملہ آوروں سمیت 12 دہشت گردوں کو ہلاک کرنے کا دعوی کیا تھا۔
فوج کا کہنا تھا کہ کامیاب آپریشن کے باعث داعش کا بلوچستان میں انفرااسٹرکچر قائم کرنے سے پہلے تباہ کردیا گیا۔
مستونگ آپریشن مغوی چینی باشندوں کی بازیابی کے لیے انتہائی خفیہ معلومات کے تحت کیا گیا تھا، سیکیورٹی حکام کی جانب سے یہ دعویٰ بھی سامنے آیا تھا کہ آپریشن کے دوران چینی باشندوں کے اغوا میں استعمال ہونے والی گاڑی برآمد کرلی گئی تھی۔
بلوچستان میں اکثر و بیشتر سرکاری ملازمین اور غیر ملکی شہریوں کے اغواء کے واقعات سامنے آتے رہتے ہیں۔