Jan ۱۷, ۲۰۱۸ ۰۸:۳۴ Asia/Tehran
  • بے نظیر بھٹو کو قتل کرنے کا طالبان کا دعویٰ

کالعدم تحریک طالبان پاکستان نے اس ملک کی سابق وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو قتل کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

کالعدم تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) نے بے نظیر بھٹو کی شہادت کے 10 سال گزرنے کے بعد انہیں قتل کرنے کی ذمہ داری قبول کرلی۔ بے نظیر کو قتل  کرنے کا دعویٰ  طالبان رہنما ابومنصور عاصم نے ’انقلاب محسود‘ کے نام سے چھپنے والی اپنی کتاب میں کیا ہے۔ یہ کتاب افغان صوبے پکتیکا  میں 30نومبر2017کو شائع کی گئی جسے اتوار کے روز متعارف کرایا گیا۔

کتاب میں کہا گیا ہے کہ بلال نامی خودکش حملہ آور اور اس کے ساتھی اکرام اللہ کو بے نظیر کو قتل کرنے کا ٹاسک دیا گیا،بلال نے جو کہ سعید کے نام سے جانا جاتا تھا،  27  دسمبر2007 کو بے نظیر بھٹو پرقاتلانہ حملہ کیا، حملہ آور نے ہجوم میں پہنچ کرپہلے بے نظیر بھٹو پر فائرنگ کی جس کی ایک گولی سابق وزیراعظم کو لگی اور پھر بارود سے بھری جیکٹ کے ذریعے خود کو اڑا لیا،حملے کے بعد اکرام اللہ موقع سے فرار ہوگیا جو تاحال زندہ ہے۔

اکرام اللہ  جنوبی وزیرستان کے علاقے مکین ٹاؤن کا رہائشی ہے تاہم کتاب میں یہ نہیں بتایا گیا کہ کیا یہ وہی اکرام اللہ ہے جسے انسداد دہشت گردی کی عدالت نے بانی ٹی ٹی پی بیت اللہ محسود سمیت مفرور قرار دیا تھا۔ بیت اللہ محسود 2009میں جنوبی وزیرستان میں ہونے والے ایک ڈرون حملے میں مارا گیا تھا۔

کتاب میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ اکتوبر2007 کو بے نظیر کی جلاوطنی کے بعد وطن واپسی پر کراچی میں استقبالی ریلی پر ہونے والے خودکش حملے طالبان نے کیے جس میں 140 افراد جاں بحق ہوگئے جب کہ بے نظیر معجزانہ طور پرمحفوظ رہی تھیں۔ اس حملے کے باوجود حکومت نے بے نظیر کی سیکورٹی کو مزید سخت کرنے کی غرض سے ٹھوس اقدامات نہیں کیے جس کی وجہ سے حملہ آوروں کے لیے ممکن ہوا کہ وہ آسانی سے راولپنڈی میں بے نظیر کو نشانہ بنائیں۔

اس وقت کے صدر مملکت پرویز مشرف نے طالبان کو بے نظیر کا قاتل قرار دیا جب کہ بے نظیر بھٹو کی دسویں برسی پر ان کے بیٹے اور پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے پرویز مشرف کو اپنی والدہ کا قاتل قرار دیا۔

اردو زبان میں چھپنے والی یہ کتاب 588 صفحات پر مشتمل ہے جس میں طالبان رہنماؤں کی کئی تصاویر  بھی شامل ہیں۔

 

ٹیگس