Mar ۲۹, ۲۰۱۸ ۰۸:۰۴ Asia/Tehran
  • پاکستان میں امریکی سفارت خانہ فوجی مقاصد کے لئے

سپریم کورٹ آف پاکستان نے امریکی سفارتخانے کی توسیع کے خلاف درخواست ناقابل سماعت قرار دیتے ہوئے مسترد کردی۔

پاکستانی میڈیا کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے امریکی سفارتخانے کی توسیع کےخلاف درخواست کی سماعت  کی، دوران سماعت درخواستگزار بیرسٹر ظفر اللہ نے موقف اپنایا کہ امریکی سفارت خانے میں 56 ایکڑ پر امریکی فوجیوں کے لیے خصوصی کنٹونمنٹ بنائی گئی ہے جبکہ اضافی جگہ پر ہوٹل بھی بنایا گیا جو خلاف قانون ہے۔ امریکی سفارت خانے نے امداد دینے کے نام پر زمین حاصل کی گئی۔

سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے ریمارکس دیے کہ یہ معاملات عدالتوں میں آنے والے نہیں یہ معاملہ ڈپلومیٹک نوعیت کا ہے ۔

واضح رہے کہ پاکستان میں بد نام زمانہ امریکی تنظیم بلیک واٹر مختلف این جی اوز کے نام سے فعال ہے اور پاکستانی عوام کے مطابق وہ پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے۔

پاکستان کے عوام ملک میں امریکی مداخلت کے خلاف ہیں اور وہ امریکہ کو پاکستان کا دشمن سمجھتے ہیں اور امریکی صدر ٹرمپ کی جانب سے پاکستان میں دہشت گردوں کے خفیہ ٹھکانوں کی موجودگی کے بیان کے بعد پاکستان اور امریکہ کے تعلقات انتہائی کشیدہ ہو گئے اور پاکستان نے امریکی سفیر کو وزارت خارجہ میں طلب کیا اور اپنا احتجاج ریکارڈ کرایا۔

ٹیگس