مولانا فضل الرحمان کے اعلان مارچ پر ملا جلا رد عمل
https://urdu.sahartv.ir/news/pakistan-i355893-مولانا_فضل_الرحمان_کے_اعلان_مارچ_پر_ملا_جلا_رد_عمل
جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کے بعد آزادی مارچ کی تاریخ کا اعلان کیا۔
(last modified 2025-02-27T04:56:45+00:00 )
Oct ۰۴, ۲۰۱۹ ۰۴:۱۴ Asia/Tehran
  • مولانا فضل الرحمان کے اعلان مارچ پر ملا جلا رد عمل

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کے بعد آزادی مارچ کی تاریخ کا اعلان کیا۔

اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے صدرمولانا فضل الرحمان نے کہا کہ تمام اپوزیشن جماعتیں اس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ حکومت جعلی مینڈیٹ سے وجود میں آئی ہے، ناجائز حکومت کی نااہلیوں کی وجہ سے ملکی معیشت ڈوب چکی ہے۔ مذہبی حوالے سے پاکستانی مسلمان کرب کا شکار ہیں۔ پاکستان کی ایٹمی صلاحیت کو بقا کا سوال پیدا ہوگیا ہے۔

مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ پورے ملک سے قافلے 27 اکتوبرکو اسلام آباد آکردم لیں گے، 27 اکتوبر کو ہم کشمیری عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی کریں گے۔ پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سے بھی رابطے میں رہیں گے،حکومت کو گھر بھیج کر ہی دم لیں گے۔

ادھرمسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے پارٹی قائد نواز شریف سے مولانا فضل الرحمان کے مارچ میں اپنی جماعت کی قیادت سے معذرت کرلی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق کوٹ لکھپت جیل میں قید مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف سے شہباز شریف نے ملاقات کی، اس موقع پر انہوں نے نواز شریف کو بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات اور آزادی مارچ سے متعلق آگاہ کیا۔

نواز شریف نے شہباز شریف کو ہدایت کی کہ مولانا فضل الرحمان کے مجوزہ آزادی مارچ میں (ن) لیگی کارکن بھرپور شرکت کریں اور شہباز شریف مارچ میں پارٹی کی قیادت کریں۔

شہباز شریف نے مارچ میں پارٹی کی قیادت سے معذرت کرتے ہوئے کہا کہ میری صحت اجازت نہیں دیتی کہ میں آزادی مارچ میں قیادت کر سکوں، ڈاکٹرز نے آرام کا مشورہ دیا ہے۔ جس پر نواز شریف نے کہا کہ آپ کی عدم موجودگی میں احسن اقبال پارٹی کی قیادت کریں۔

در ایں اثناء سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر اپنے پیغام میں فردوس اعوان کہا کہ وزیراعظم عمران خان کے خلاف سڑک پر نکلنے کا مطلب کرپشن کو لائسنس دینے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمٰن قومی خزانے کو بے رحمی سے لوٹنے والوں کو بچانے کےلیے کھڑے نہ ہوں۔

ڈاکٹر فردوس اعوان نے مزید کہا کہ مولانا صاحب، آپ اسلام اور قانون کی مخالف سمت میں کھڑے نہ ہوں اور مدارس کے معصوم بچوں کے سر پر سیاست نہ کریں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ مولانا فضل الرحمٰن کا مدارس کے بچوں کو سیاسی مفاد کے لیے انسانی ڈھال بنانا جمہوریت نہیں۔

واضح رہے کہ جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کے بعد آزادی مارچ کی تاریخ کا اعلان کیا۔