Nov ۲۱, ۲۰۱۹ ۱۸:۰۴ Asia/Tehran
  • حکومت کی جانب سے کئی اہم عہدوں کی پیشکش کی گئی:مولانا فضل الرحمن

پاکستان میں اپوزیشن کے آزادی مارچ کے قائد اور جمیعت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمن نے دعوی کیا ہے کہ حکومت کی جانب سے انہیں کئی اہم عہدوں کی پیشکش کی گئی ہے۔

جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن نے ڈیرہ اسماعیل خان میں پریس کانفرنس سے خطاب میں دعوی کیا کہ مجھ سے کہا گیا کہ آپ ڈیرہ اسماعیل خان سے منتخب ہوکر واپس پارلیمنٹ میں آ جائیں۔ان کا کہنا تھا کہ اسی کے ساتھ بلوچستان کی حکومت دینے اور صوبے کا گورنر بنانے نیز چیئرمین سینیٹ کے عہدے کی پیش کش بھی کی گئی ۔

انھوں نے کہا کہ یہ ساری پیشکشیں اِسی دورِ حکومت میں ہوئی ہیں لیکن انھوں نے ان سب کو ٹھکرا دیا۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ یہ عہدے ان کی نظر میں حقیر ہیں۔انھوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے غیر ملکی فنڈنگ کیس کی روزانہ سماعت کا حکم دے دیا ہے۔مولانا فضل الرحمن نےکہا کہ پانچ دسمبر کو چیف الیکشن کمشنر ریٹائر ہو رہے ہیں، امید ہے کہ وہ عہدے سے سبکدوش ہونے سے پہلے ہی اس کیس کا فیصلہ سنادیں گے۔انھوں نے مطالبہ کیاکہ چیف الیکشن کمشنر ریٹائرمنٹ سے پہلے فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنادیں ورنہ ان کی مدت تقرری میں توسیع کی جائے ۔

انہوں نے پریس کانفرنس میں اپنا پرانا مطالبہ دہرایا کہ وزیرِ اعظم استعفیٰ دیں یا پھر تین مہینے کے اندر اندر الیکشن کرائے جائیں۔مولانا فضل الرحمٰن نے کہا کہ رہبر کمیٹی نے شاہراہوں کی بندش ختم کرنے کا فیصلہ کیا، کارکنوں کا شکر گزار ہوں جنہوں نے ایک ہفتے سے شاہراہیں بند رکھیں، اب یہ تحریک ملک کے بازاروں تک جائے گی، ہر ضلع میں مظاہرے شروع ہوں گے۔

ٹیگس