پاکستان میں ایک بار پھر کورونا خطرے کی گھنٹی بجا دی گئی
کورونا سے پاکستان میں مزید 6 افراد جان کی بازی ہار گئے جس کے بعد اموات کی مجموعی تعداد 6 ہزار 513 تک پہنچ گئی۔
پاکستانی میڈیا کے مطابق کورونا ایڈوائزری گروپ نے ایک بار پھر موذی وائرس کے بارے میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے، حکام کا کہنا ہے کہ ایس اوپیز پر عمل نہ کیا تو آنے والے دن کورونا کے حوالے سے خطرناک ہو سکتے ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے بھی اپنے ایک پیغام میں عوام سے اپیل کی ہے کہ کورونا سے محفوظ رہنے کے لئے ماسک پہنیں اور سماجی فاصلے کی پابندی کریں ۔ انھوں نے کہا کہ اللہ کی رحمت سے پاکستان کورونا کے بدترین اثرات سے محفوظ رہا ہے لیکن اس کی دوسری لہر آنے کا خدشہ ہے اس لئے تمام دفاتر اور تعلیمی اداروں میں سماجی فاصلے کی پابندی اور ماسک پہننے کو یقینی بنایا جائے۔
محکمۂ صحت کے ذرائع کے مطابق 80 فیصد سے زائد شہریوں نے ایس اوپیز پر عملدرآمد چھوڑ دیا ہے۔ 75 فیصد شہری ماسک ہی نہیں پہنتے جبکہ 85 فیصد سماجی فاصلہ اور ہینڈ سینی ٹائزر استعمال کرنا بھول چکے ہیں۔
حجام، بیوٹی سیلونز، بازار، شاپنگ مالز اور دفاتر میں ایس اوپیز پر عملدرآمد نہیں ہو رہا۔ انتظامیہ اور محکمہ صحت کی جانب سے ایس او پیز کی خلاف ورزی پر ایکشن نہیں لیا جاتا، جبکہ شہریوں کا کہنا ہے کہ کورونا ختم ہوچکا، دوبارہ آئے گا تو احتیاط کر لیں گے۔
کورونا ایکسپرٹ ایڈوائزری گروپ کے ممبر پروفیسر اسد اسلم کا کہنا ہے کہ عوام غیرسنجیدہ رویہ اپنا رہے ہیں، موسم کی تبدیلی سے وائرس واپس آ سکتا ہے۔
حکام نے مزید کہا ہے کہ ایس او پیز پرعمل نہ کیا تو کسی بھی پریشان کن صورتحال کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔
این سی او سی کے مطابق پاکستان میں کورونا کے ایکٹو کیسز کی تعداد نو ہزار ایک سو پینتیس ہو گئی ہے، 511 مریضوں کی حالت تشویشناک ہے جبکہ 2 لاکھ 98 ہزار968 مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔ گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران کورونا کے 33 ہزار 725 ٹیسٹ کیے گئے جن میں سے مزید 632 افراد کے کورونا میں مبتلا ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس طرح متاثرین کی مجموعی تعداد تین لاکھ چودہ ہزار چھ سو سولہ ہو گئی ہے۔