پاکستان میں کورونا کی صورتحال میں شدت
پاکستان میں کورونا کی تیسری لہر شدت اختیار کرگئی ہے اور حکام نے صورتحال پر قابو پانے کے لیے ملک میں کورونا پروٹوکول پر سختی کے ساتھ عملدرآمد کا حکم دیا ہے۔
سرکاری سطح پر جاری کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں پچھلے چوبیس گھنٹوں کے دوران کورونا کے چھے ہزار ایک سو ستائیس مریضوں کا اندراج کیا گیا ہے جو دو ہزار بیس کے بعد سے ایک دن میں مبتلا ہونے والوں کی سب سے زیادہ تعداد ہے۔
اس عرصے کے دوران پاکستان میں ایک سو انچاس مریض جان کی بازی ہار گئے ہیں جس کے بعد کورونا سے مرنے والوں کی تعداد سولہ ہزار دو سو سے تجاوز کرگئی ہے۔
پاکستان میں کورونا سے صحت یاب ہونے والوں کی تعداد چھے لاکھ ساٹھ ہزار سے قریب بتائی جاتی ہے جبکہ کورونا کے فعال معاملات کی تعداد اسی ہزار پانچ سو سے تجاوز کرگئی ہے۔
کورونا وائرس کے مریضوں میں حالیہ اضافے کے پیش نظر کئی علاقوں میں دوبارہ لاک ڈاؤن اور اسمارٹ لاک ڈاؤن لگایا گیا ہے جبکہ کاروباری سرگرمیوں کے اوقات کار بھی محدود کردیے گئے ہیں۔
دوسری جانب پاکستان کی وزارت تعلیم نے ملک بھر میں پرائمری اور ثانوی تعلیمی اداروں کو عید الفطر تک بند رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
وفاقی وزیر تعلیم شفقت محمود نے اعلان کیا ہے کہ وائرس سے زیادہ متاثرہ اضلاع میں نویں سے بارہویں جماعت کے طلبہ کے لیے مرحلہ وار کلاسوں کا انعقاد کیا جائے گا البتہ پہلی سے آٹھویں جماعت کے لیے اسکولز بدستور بند رہیں گے۔